اُردُو
Perspective

ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کی 25 ویں سالگرہ پر

یہ 14 فروری 2023 کو انگریزی میں شائع ہونے 'On the 25th anniversary of the World Socialist Web Site' والے اس ارٹیکل کا اردو تر جمہ ہے۔

پچیس سال پہلے 14 فروری 1998 کو چوتھی انٹرنیشنل کی انٹرنیشنل کمیٹی نے ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کو آن لائن  کرنا شروع کیا۔ اشاعت کے پہلے سال کے دوران  ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس ہفتے میں پانچ دن آن لائن کیا جاتا تھا۔ مارچ 1999 کے آغاز سے ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے اپنی ہفتہ وار پوسٹنگ میں چھٹا دن شامل کیا۔ اس کے قیام کے دن سے مقررہ اشاعت تک  کا ایک دن بھی ایسا نہیں جو شائع  نہ کیا گیا ہو۔ صرف انگریزی زبان میں سائٹ پر پوسٹ کیے گئے مضامین کی تعداد تقریباً 100,000 ہے۔ لیکن ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس 29 زبانوں میں پوسٹ کیا جاتا ہے۔ اگر ان اعداد کی خانہ بندی  ان تمام زبانوں میں مضامین کی تعداد کو شامل کر کے کی جائے تو اس سے شائع شدہ مضامین کی کل تعداد میں دسیوں ہزار کا اضافہ ہو جائے گا۔

ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس اب تک دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مارکسسٹ-سوشلسٹ انٹرنیٹ پر مبنی اشاعت ہے۔ ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس  تک رسائی کو روکنے کے لیے گوگل اور دیگر بڑے کارپوریٹ سرچ انجنوں کی مسلسل اور پرزور دستاویزی کوششوں کے باوجود ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ ہر روز تقریباً 70,000 صفحات کے استعمال کو ریکارڈ کرتی ہے۔ 2022 میں دیکھے گئے ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس  صفحات کی کل تعداد 25,995,248 تھی۔ اس نئے سال کے پہلے مہینے کے دوران ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ نے 1,882,673 صفحات کی آراء ریکارڈ کیں۔

ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کے سامعین بین الاقوامی ہیں۔ اس کے تقریباً 40 فیصد پڑھنے والے امریکہ سے باہر رہتے ہیں۔ اس کے پڑھنے والے بالغ عمر کے تمام گروپوں میں تقسیم ہیں۔ ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس  کے 17.36 فیصد قارئین کی عمریں 18 سے 24 سال کے درمیان ہیں۔ یعنی وہ ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کے قائم ہونے کے بعد پیدا ہوئے۔ 26.66 فیصد کی عمریں 25 سے 34 سال کے درمیان ہیں۔ ان لوگوں کے لیے جو اس عمر کے آبادیاتی لحاظ سے ہیں وہ اپنی پوری بالغ زندگی ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس  تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ 17.91 فیصد کی عمریں 35 اور 44 کے درمیان ہیں۔ 14.74 فیصد 45 اور 54 کے درمیان ہیں۔ 12.97 فیصد 55 اور 64 کے درمیان ہیں۔ اور آخر میں ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس  کے 10.36 فیصد قارئین کی عمریں 65 سال سے زیادہ ہیں۔

سائٹ پر شائع ہونے والے مضامین کی عین مقدار اور اس کے سامعین کی رسائی اور وسعت ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ لیکن آج ہم جو جشن منا رہے ہیں وہ ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس  کے ان  مقداری عناصر کے پہلوں سے کہیں زیادہ ہے جن کی مقدار درست کی جا سکتی ہے۔ عالمی سوشلسٹ ویب سائٹ کا شمار بین الاقوامی سوشلسٹ تحریک کی تاریخ میں سب سے اہم اشاعتوں میں ہوتا ہے۔ اس کی اشاعت چوتھائی  صدی پر محیط ہے جس میں اہم سیاسی، سماجی، اقتصادی، ثقافتی اور فکری واقعات، رجحانات اور عمل کے لیے بین الاقوامی مارکسی-سوشلسٹ-ٹراٹسکیسٹ تحریک کے عملی کام کی تاریخ  سے کم نہیں ہے جو کہ 20 ویں صدی کے آخری سالوں اور اکیسویں صدی کی ابتدائی دہائیاں میں کیے گے ہیں قابل ذکر ہیں۔

ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کے آغاز کے وقت شائع ہونے والے ایک بیان میں اس کے ادارتی بورڈ نے نئی اشاعت کے اصول اور مقصد کی وضاحت کی  جو کہ ایک بالکل نئے میڈیا پر شایع ہو رہا تھا۔ جسکی وضاحت یوں کی گی:

جیسا کہ بڑے بڑے واقعات، مالیاتی بحرانوں سے لے کر عسکریت پسندی اور جنگ کے پھٹنے تک جو ناگزیر طور پر طبقاتی تعلقات کی موجودہ حالت کو توڑ دیتے ہیں، ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس جدوجہد میں شامل کارکنوں اور محنت کش لوگوں کی بڑھتی ہوئی صفوں کے لیے ایک سیاسی رجحان فراہم کرے گی۔ ہم ہر ملک میں بے روزگاری، کم اجرت، آسٹریٹی کی پالیسیوں اور جمہوری حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف زبردست لڑائیوں کی پیش بینی کرتے ہیں۔ ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ تاہم اصرار کرتی ہے کہ ان جدوجہد کی کامیابی مارکسی عالمی نقطہ نظر کی رہنمائی میں سوشلسٹ سیاسی تحریک کے اثر و رسوخ میں اضافے سے الگ نہیں ہے۔

اس طرح ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس تاریخی علم، ثقافتی تنقید، سائنسی روشن خیالی اور انقلابی حکمت عملی کی انسائیکلوپیڈک وسعت کے لیے کوشش کرے گی۔ اس کا مقصد سیاسی اور ثقافتی گفتگو کی سطح کو بلند کرنا ہے جو جدید سوشلسٹ ورکرز تحریک کے دوبارہ آحیاء کے لیے ناگزیر ہے۔

ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ 25 سال پہلے پیش  کیے جانے والے تناظر  کے ساتھ سچی سے کھڑی ہے۔

پچھلی چوتھائی صدی کے تمام ہنگامہ خیز واقعات کو ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کے مارکسسٹ تجزیہ پر رپورٹ کیا گیا اور ان سب کو فوکس کیا گیا: امریکی سامراج کی سفاکانہ 'ہمیشہ کے لیے جنگیں'، وال سٹریٹ پر اقتصادی کریش، عالمی طبقاتی جدوجہد کے اتار چڑھاؤ، جمہوریت کی ٹوٹ پھوٹ، فاشسٹ تحریکوں کی بحالی، انقلابی بغاوتیں، ردِ انقلابی تشدد، قدرتی اور ماحولیاتی آفات جو منافع کی تباہ کن جستجو اور سماجی انفراسٹرکچر کو نظر انداز کرنے سے پیدا ہوئی ہیں اور  تباہ کن وبائی امراض پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔

ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے محنت کش طبقے کے سماجی حالات کی پیروی کی ہے اور انتہائی ترقی یافتہ اور کم ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک دونوں میں سماجی عدم مساوات کے بھیانک سطح اور تباہ کن نتائج کو بے نقاب کیا ہے۔

ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کا آرکائیو نہ صرف اس کی کوریج کے دائرہ کار کی گواہی دیتا ہے بلکہ اس کی بصیرت اور دور اندیشی کی گہرائی کی بھی گواہی دیتا ہے۔ اس کا کام سیاسی تناظر کی سائنس کے طور پر مارکسزم کے اہم کردار کو ثابت کرتا ہے۔ پچھلی چوتھائی صدی کے بڑے واقعات پر ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کا ردعمل وقت کی کسوٹی پر درست ثابت ہوا  ہے۔

اگرچہ اس نے روزمرہ کے واقعات کو بروقت تجزیہ کرنے کا موضوع بنایا ہے مگر ورلڈ سوشلسٹ ویب سائیٹ نے یونیورسٹیوں میں فروغ پانے والے بورژوا نظریے کی مارکسزم کے خلاف  بہت سی شکلوں کو بے نقاب کرتے ہوئے مارکسزم کا دفاع کرنے کی اپنی ذمہ داری سے کوتاہی کبھی نہیں کی ہے خاص طور پر فرینکفرٹ اسکول سے وابستہ مارکسزم کے فریب کارانہ خاکے اور مابعد جدیدیت کی غیر معقولیت — اور سوشلزم کے لیے محنت کش طبقے کی جدوجہد کے متوسط ​​طبقے کے جعلی بائیں بازو کے مخالفین کی رجعتی خود غرض شناخت کی سیاست میں ان کے مظاہر کو مسلسل  بے نقاب کیا ہے۔

ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کے نظریاتی کام کا ایک لازمی عنصر محنت کشوں کے سیاسی اور سماجی طبقاتی شعور کی نشوونما کے لیے اس کی وابستگی ہے کہ اس نے ثقافتی تنقید پر توجہ دی ہے یہ عزم جس کا اظہار فلموں اور کاموں کے ہزاروں جائزوں میں اور دیگر  فنکارانہ، ادب، آرٹ  کے ساتھ ساتھ سماجی تبصرے کا مسلسل سلسلہ جاری رکھا ہے۔ ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ نے حکمران طبقے اور میڈیا اور تفریحی صنعتوں میں ان کے رفیقوں کی مسلسل کوششوں کے خلاف ایک غیر سمجھوتہ کرنے والی جدوجہد کی ہے جو کہ ثقافت کو نیچا دکھاتے ہوئے پسماندگی کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور اس کی تشہیر کرتے ہیں اور اس طرح محنت کش طبقے کے احساسات کو دباتے ہوئے کمزور اور مفلوج کرتے ہیں تاکہ وہ  وسیع تشدد، سرمایہ دارانہ معاشرے کے جبر، استحصال اور ناانصافی کو قبول کرتے ہوئے کوئی مزاحمت نہ کر سکیں۔

ورلڈ سوشلسٹ ویب سائیٹ نے تاریخ کی جعلسازی کے خلاف بھی جنگ چھیڑ دی ہے جس کا سہارا لے کر حکمران طبقہ ماضی کے عظیم بورژوا جمہوری اور سوشلسٹ انقلابات کو بدنام کرتا ہے اور اس طرح محنت کش طبقے کو اس کے حال کی جدوجہد کی شناخت کے ذرائع سے محروم کرتا ہے تاکہ سرمایہ داری کے خاتمے اور ہر قسم کے جبر اور استحصال سے انسانیت کی آزادی کے لیے بنی نوع انسان کی تحریک کے تاریخی راستے میں جدوجہد میں ان کے کردار کو گمراہ کر سکیں۔

بین الاقوامی کمیٹی کی جانب سے اپنے سکیشنز کے پرنٹ شدہ اخبارات کو انٹرنیٹ پر منتقل کرنے کی تیاریاں فروری 1997 میں شروع کی۔ اس وقت ورلڈ وائڈ ویب اپنے ابتدائی دور میں تھی۔ دنیا میں شاید ہی کوئی مطبوعہ ماس اخبار ہو جس نے نئے میڈیم کی اہمیت کو تسلیم کیا ہو۔ بڑے سرمایہ دار پریس اداروں کا خیال تھا کہ انٹرنیٹ ان کی پرنٹ پبلیکیشنز کے لیے ایک معمولی ضمیمہ سے کچھ زیادہ ہی ہوگا۔ پیٹی بورژوا بنیاد پرست اور جعلی بائیں بازو کی تنظیموں نے یا تو اس نئے میڈیم کا مذاق اڑایا یا اس کا بالکل نوٹس نہیں لیا۔

لیکن بین الاقوامی کمیٹی جو کہ تاریخی مادیت کے سکول میں مضبوطی سے پیوسط  ہے نے محنت کش طبقے کی انقلابی تحریک کی بڑھوتی کے لیے انٹرنیٹ کے ممکنہ اور سیاسی مضمرات کو تسلیم کیا۔ آئی سی آئی ایف  نے نئی میڈیا ٹیکنالوجی کی دو اہم خصوصیات کی نشاندہی کی۔ سب سے پہلے انٹرنیٹ کی ترقی ٹراٹسکی تحریک کو انقلابی سوشلسٹ نظریات اور سیاست کے لیے ایک وسیع نئے سامعین کے ساتھ تخلیق کرے گی۔ دوسرا، نئی ٹیکنالوجی قومی سرحدوں سے تیزی میں پھیلاتے ہوئے  مواصلات کو بین الاقوامی بنائے گی۔ یہ عالمی سطح پر بین الاقوامی محنت کش طبقے کی جدوجہد کو مربوط اور ہدایت دینے کے غیر معمولی مواقع فراہم کرے گی۔ فورتھ انٹرنیشنل کی بین الاقوامی کمیٹی نے تسلیم کیا کہ مواصلات میں انقلاب عالمی سوشلسٹ انقلاب کی بڑھوتی کے لیے بے مثال طاقت  مرکوز کرتے ہوئے ذہنی اور جسمانی جنبش فراہم کرے گا۔

فروری 1998 کے اپنے بانی بیان میں ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کے ادارتی بورڈ نے لکھا:

ہمیں یقین ہے کہ ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس بین الاقوامی سطح پر محنت کش طبقے کی سیاسی تعلیم اور اتحاد کے لیے ایک بے مثال ذریعہ بنے گی۔ اس سے مختلف ممالک کے محنت کش لوگوں کو سرمائے کے خلاف اپنی جدوجہد کو مربوط کرنے میں مدد ملے گی  بالکل اسی طرح جیسے بین الاقوامی کارپوریشنز مزدوروں کے خلاف اپنی جنگ کو قومی حدود میں منظم کرتی ہیں۔ یہ تمام اقوام کے محنت کشوں کے درمیان بات چیت کو آسان بنائے گا انہیں اپنے تجربات کا موازنہ کرنے اور مشترکہ حکمت عملی کی وضاحت کرنے کی اجازت دے گا۔ آئی سی آئی ایف توقع رکھتی ہے کہ انٹرنیٹ کے پھیلنے کے ساتھ ساتھ ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کے عالمی سامعین میں اضافہ ہوگا۔ مواصلات کی ایک تیز رفتار اور عالمی شکل کے طور پر  انٹرنیٹ کے غیر معمولی جمہوری اور انقلابی اثرات ہیں۔ یہ بڑے پیمانے پر سامعین کو لائبریریوں اور آرکائیوز سے لے کر میوزیم تک دنیا کے دانشورانہ وسائل تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔

ابھی تک میڈیا گروپس اور حکومتیں انٹرنیٹ تک رسائی کو محدود کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہیں اور اشاعتی مواد کی لاگت نسبتاً کم ہے۔ معاشرے کے وسیع طبقوں کے گھروں، اسکولوں اور کام کی جگہوں میں کمپیوٹر کا پھیلاؤ دسیوں کروڑوں لوگوں کے ساتھ سستے طریقے سے بات چیت کرنے کے امکانات کو روشن کرے گا۔

ایک نئی نسل جو اب سیاسی زندگی میں داخل ہو رہی ہے زیادہ تر انٹرنیٹ کے ذریعے تعلیم حاصل کرے گی۔ پہلے ہی 80-100 ملین لوگوں کو ویب تک رسائی حاصل ہے، اور یہ تعداد اگلے دو سالوں میں تیزی سے بڑھنے کی امید ہے۔ جدید معاشی زندگی کے لیے اس ٹیکنالوجی کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ تیزی سے وسیع اور استعمال میں آسان ہو جائے گی۔

ادارتی بورڈ کی یہ پیشین گوئی جلد ہی درست ثابت  ہو گئی۔ 1998 میں جب ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے اپنی اشاعت شروع کی تو انٹرنیٹ کے 80 سے 100 ملین صارفین تیزی سے بڑھ کر اربوں میں پہنچ گئے۔ آج ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کے شروع ہونے کے 25 سال بعد  قارئین حیران ہو سکتے ہیں کہ بائیں بازو کے ہونے کا دعویٰ کرنے والی کسی بھی دوسری تنظیم نے اس ٹیکنالوجی کے بارے میں اسی طرح کا ردعمل کیوں نہیں دیا۔ اس کا جواب یہ نہیں ہے کہ ان کے پاس تکنیکی مہارت کی کمی تھی۔ انہوں نے عالمی طبقاتی جدوجہد کی بڑھوتی کے لیے انٹرنیٹ کی صلاحیت کو ہی نہیں سمجھا کیونکہ یہ  ان کے لئے یہ چیز  دلچسپی یا تلاش  کرنے کا باعث نہیں تھی۔

لیکن بین الاقوامی کمیٹی اس انقلابی صلاحیت پر لیزر کی طرح مرکوز تھی۔ ایک بار پھر فروری 1998 کے بیان کا حوالہ دینا ضروری ہے:

پندرہویں صدی میں گٹن برگ کی پرنٹنگ پریس کی ایجاد نے فکری زندگی پر چرچ کے کنٹرول کو توڑنے جاگیردارانہ اداروں کو کمزور کرنے اور عظیم ثقافتی احیاء کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا جو نشاۃ ثانیہ سے شروع ہوا اور بالآخر روشن خیالی اور فرانسیسی انقلاب میں اس کا اظہار ہوا۔ لہذا آج انٹرنیٹ انقلابی فکر کی تجدید میں بڑی سہولت فراہم کر سکتا ہے۔ فورتھ انٹرنیشنل کی انٹرنیشنل کمیٹی اس ٹیکنالوجی کو پوری دنیا کے محنت کش طبقے اور مظلوموں کی آزادی کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ آج عالمی مواصلات میں انقلابی پیشرفت کا استعمال کرتی ہے۔ لیکن ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کی طاقت، برداشت اور کامیابی اس ٹیکنالوجی سے حاصل نہیں ہوتی جو اس کے استعمال میں آتی ہے بلکہ مارکسی طریقہ کار، سوشلسٹ پروگرام اور تاریخی تناظر سے حاصل ہوتی ہے جس پر یہ مبنی ہے۔

اس سال نہ صرف ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کے قیام کی 25 ویں سالگرہ ہے۔ یہ اکتوبر 1923 میں لیون ٹراٹسکی کی قیادت میں بائیں بازو کی اپوزیشن کے قیام کا صد سالہ سال بھی ہے۔ جس نے سٹالنزم کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا  جو سوویت بیوروکریسی کا رد انقلابی قوم پرستانہ پروگرام تھا جس نے سوشلزم کے ساتھ مجرمانہ غداری کی جس کی وجہ سے پوری دنیا میں محنت کش طبقے کی بے شمار شکستیں ہوئیں اور بالآخر 1991 میں سوویت یونین کی تحلیل اور سرمایہ داری کی بحالی پر منتج ہوئی۔

ٹراٹسکیسٹوں کا بین الاقوامی کیڈر جس نے 1998 میں ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کی بنیاد رکھی اگرچہ تعداد میں نسبتاً کم تھا لیکن 1923 میں بائیں بازو کی اپوزیشن کے قیام کے بعد سے  پچھلے 75 سالوں میں ٹراٹسکیسٹ تحریک کے ذریعے جمع کیے گئے نظریاتی اور سیاسی سرمائے سے مستفید ہوا۔  1938 میں چوتھی بین الاقوامی  1953 میں بین الاقوامی کمیٹی اور اس کے بعد کی تمام جدوجہد مارکسزم اور ٹراٹسکی ازم  کے خلاف  ہر طرح کی موقع پرستی ترمیم پسندی  کے خلاف جن ساتھیوں نے ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کی بنیاد رکھی اور اس کی بڑھوتی کے لیے جدوجہد کی  وہ ٹراٹسکی تحریک کی تاریخ سے گہرئے طور پر آشنا تھے اور اس پر اچھی طرح عبور رکھتے  تھے اور اپنی زندگی کی کئی دہائیاں چوتھی انٹرنیشنل کی تعمیر کے لیے وقف کر چکے تھے۔

لیکن ایک چوتھائی صدی قبل ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کے قیام کے بعد سے پرانی نسل کی کوششوں کو پوری دنیا میں نوجوان کامریڈز نے تقویت بخشی اور آگے بڑھایا جن میں سے بہت سے لوگوں نے سوشلزم، مارکسزم اور ٹراٹسکی ازم سے اپنی پہلی روشناسی انٹرنیٹ پر تلاش کرتے ہوئے کی اور ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کو پایا۔ سوشلزم اور سیاسی تعلیم کے عمل کے اسی راستے پر مستقبل قریب میں لاکھوں نوجوان محنت کش اور طلبہ نوجوان چلیں گے۔

ہمیں ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کی کامیابیوں پر فخر کرنے اور جشن منانے کا پورا حق ہے۔ لیکن ہم کمانیں نہیں اٹھا رہے ہیں اور نہ ہی اپنے اعزاز پر آرام کر رہے ہیں۔ بنی نوع انسان کی تاریخ کا سب سے بڑا بحران اب  ہمارئے کندوں پر ہے۔ یوکرین میں جنگ کا آغاز ایک بڑا انتباہ ہے۔ بیسویں صدی کی دو عالمی جنگوں کی ہولناکیوں سے بھی کہیں بڑھ کر بے مثال شدت کی ایک تباہی سامنے آ رہی ہے اور انسانی تہذیب کی بقا کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

اس امید پر انسانیت کی بقا کو داؤ پر لگانے سے بڑی غلطی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ سامراجی اور سرمایہ دارانہ حکومتوں پر عقل غالب آجائے گی کہ وہ اپنا راستہ بدل دیں گی اور تناؤ کم کریں گی اور اپنے منافع اور جغرافیائی سیاسی تسلط کے حصول کو ایک طرف رکھ دیں گی۔

حکمران طبقات کی ان کی پالیسیوں کے انسانی زندگی پر اثرات کے بارے میں بے حسی پہلے ہی وبائی مرض کے بارے میں ان کے ردعمل سے عیاں ہو چکی ہے جس کا خلاصہ سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے الفاظ میں کیا گیا تھا کہ ’’لاشوں کے انبار کو اونچا ہونے دو‘‘۔ اور پھر انہوں نے یہ کر د کھایا۔  2020 سے اب تک تقریباً 25 ملین لوگ کوویڈ -19 سے مر چکے ہیں اور موت اور معذوری میں وبائی مرض کی مسلسل لاگت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اور آج بھی ہم ترکی اور شام میں رونما ہونے والی ہولناکیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں، ایک اور 'قدرتی آفت' جو کہ بے حسی غفلت  کا نتیجہ ہے  کیونکہ  انکے لئے ذاتی دولت اور طاقت کا حصول  انسانوں کی زندگیوں سے زیادہ  اہم ہیں۔

صرف ایک طاقت ہے جو تباہی کی طرف بڑھنے کو روک سکتی ہے چاہے جنگ ہو موسمیاتی تبدیلی یا پھر اس سے بھی بدتر وبائی بیماری کی صورت میں ظاہر ہو وہ عالمی محنت کش طبقہ ہے۔ صرف ایک طاقت انسانیت کی ترقی پسندی کی تجدید کر سکتا ہے وہ بین الاقوامی محنت کش طبقہ ہے۔ ترقی کا یہ متبادل اور ضروری راستہ کوئی خیالی پلاوُ  نہیں ہے۔ اس کا حقیقی ظہور اور تاریخی صلاحیت اب محنت کش طبقے کی  عالمی جدوجہد  میں بڑھوتی  میں واضح طور پر منظر عام پر آ رہی  ہے۔ وہی معروضی سماجی و اقتصادی تضادات جو حکمران طبقات کو فاشزم اور جنگ کی طرف لے جاتے ہیں عالمی محنت کش طبقے کو انقلاب اور سوشلزم کی طرف راغب کرتے ہیں۔

یہ وہ تناظر ہے جو ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کے کام کو متعین اور چلاتا ہے۔

ہم ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کے تمام قارئین اور حامیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سائٹ کے کام کو آگے بڑھانے میں ہمارا ساتھ دیں۔

یقیناً ہمیں آپ کی مالی مدد کی ضرورت ہے۔ سائٹ کے بڑھتے ہوئے قارئین کی تعداد اور طبقاتی جدوجہد کے بڑھتے ہوئے عالمی دائرہ کار کے دوران ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس پر بہت زیادہ ذامداری اور توقع کی امید کی جاتی  ہے۔  جس کے لئے ہمارے ادارتی عملے کو اس کے عملی اور سیاسی چیلنجوں کا جواب دینے کے لیے بڑھایا جانا چاہیے۔ ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کو اپنے تکنیکی اور پروگرامنگ عملے کو مضبوط کرنا چاہیے تاکہ ایک پیچیدہ سائٹ کو برقرار رکھا جا سکے جس تک لاکھوں قارئین تک رسائی حاصل ہو۔

لہذا  ہم آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کو ممکنہ طور پر سب سے بڑی مالی رقم دیں۔ اپنا حصہ ڈالنے کے لیے wsws.org/donate پر جائیں۔ اگر ممکن ہو تو ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کو اپنا ماہانہ چندہ دینے کا بھی عہد کریں۔

ہم سائٹ کے قارئین کی تعداد کو بڑھانے میں بھی آپ سے تعاون کی درخواست کرتے ہیں۔ ہمکار محنت کشوں، دوستوں اور ساتھی طلباء کے مضامین کو آگے بھیجیں جو سائٹ پر شائع  ہوتے ہیں۔ ان سے سائٹ کے باقاعدہ قارئین اور شراکت دار بننے کی ترغیب دیں۔ ہم قارئین کی جانب سے اہم سیاسی اور سماجی پیش رفت پر تحریری تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں اور چاہیے  دنیا کے کسی بھی حصے میں طبقاتی جدوجہد سے متعلق ہو رپورٹس کو شیر کریں۔

اور سب سے اہم  ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ سوشلزم کی لڑائی میں شامل ہونے کا فیصلہ کریں۔ ٹراٹسکی ازم کے اس صد سالہ سال میں اپنے ملک میں سوشلسٹ ایکویلٹی پارٹی یا سوشلسٹ ایکویلیٹی گروپ سے رابطہ کریں جو چوتھی انٹرنیشنل کی بین الاقوامی کمیٹی سے وابستہ ہے۔ شامل ہونے یا اس بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے کہ آپ اپنے علاقے یا ملک میں سوشلسٹ مساوات گروپ کے قیام کے لیے کس طرح کام شروع کر سکتے ہیں wsws.org/join پر جائیں۔

2023 ایک نازک سال ہو گا۔ فورتھ انٹرنیشنل کی بین الاقوامی کمیٹی کی آواز ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کی گردش اور سیاسی اثر و رسوخ کو بڑھانے میں کوئی وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ لاکھوں قارئین اور حامیوں کو سوشلزم کے لیے محنت کش طبقے کی عالمی لڑائی میں لاکھوں اراکین  کو  متحرک نظریاتی اور سیاسی جنگجو بننا چاہیے۔

Loading