اُردُو
Perspective

روس نے امریکی ڈرون کو مار گرایا کیونکہ نیٹو یوکرین میں بڑے پیمانے پر کشیدگی کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

یہ 14 مارچ 2023 کو انگریزی میں شائع ہونے 'Russia downs US drone as NATO plans major escalation in Ukraine'والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔

منگل کے روز ایک امریکی  ایم کیو- 9 ریپر فوجی ڈرون امریکی علاقے سے 6,000 میل دور دو روسی لڑاکا طیاروں کے ساتھ مقابلے کے دوران روسی ساحلی پٹی کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔

چاہے امریکی طیارے کو روسی جیٹ نے مارا ہو جیسا کہ امریکیوں کا دعویٰ ہے یا اسے مشقوں کے دوران  گر کر تباہ ہوا ہو جیسا کہ روسیوں کا دعویٰ ہے۔ تاہم سرد جنگ کے بعد  یہ پہلا واقع ہے  جب روسی فضائیہ نے کسی امریکی طیارے کو مار گرایا۔

ایم کیو- 9 ریپر ڈرون [کریڈٹ: یو ایس ایئر فورس] [Photo: US Air Force]

یہ حادثہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور روس کے درمیان پھیلتی ہوئی جنگ میں ایک اور خطرناک سنگ میل کی نشاندہی کرتا ہے جو عالمی سطح پر شدت اور کینسر کی ماند  پھیلتی جا رہی ہے۔

پینٹاگون نے اپنی پریس بریفنگ میں اس واقعے سے متعلق کوئی بامعنی معلومات فراہم نہیں کیں۔ اس نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ ڈرون کہاں تھا  یہ روسی فضائی حدود کے قریب کیا کر رہا تھا آیا یہ مسلح تھا یا 'نگرانی' سے ہٹ کر یہ کس قسم کا مشن انجام دے رہا تھا۔

پینٹاگون نے روس کے اس دعوے کی تردید نہیں کی کہ ڈرون نے اپنا ٹرانسپونڈر(ریڈیائی اشارہ وصول کرنے والا آلہ)  بند  تھا اور یہ روسی فضائی حدود کی طرف جا رہا تھا۔

ایک امریکی اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ طیارہ کریمیا کے جنوب مغرب میں تقریباً 75 میل کی دوری پر پرواز کر رہا تھا جس کی وجہ سے یہ روسی سرزمین سے شاید 100-150 میل کے فاصلے پر تھا۔

بحیرہ اسود اور نیٹو کی فضائی حدود پر امریکی نگرانی کی کارروائیاں یوکرین کی مسلح افواج کی کارروائیوں کا ایک اہم جزو ہیں جنہیں نہ صرف امریکی فوج کی طرف سے مالی امداد اور مسلح کیا جاتا ہے، بلکہ اس کی طرف سے ہدایت کی جاتی ہے۔

فروری میں واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ یوکرائنی فوج کی طرف سے شروع کیے گئے تقریباً تمام طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل حملے امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ ہدف پر انحصار کرتے ہیں۔

اکتوبر میں کینیڈین براڈکاسٹنگ کمپنی کے رپورٹر ڈیوڈ کامن نے یوکرین کی سرحد کے قریب نیٹو کی جاسوسی کی پرواز میں سوار ہوتے ہوئے بتایا۔  کہ نیٹو 'اتحادی اس انٹیلی جنس کو حقیقی وقت میں یوکرینیوں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔' انہوں نے یہ بھی کہا کہ پایلٹ   'یوکرین کے جیٹ طیاروں اور میزائلوں حملوں کے بعد روسی ریڈار کے سگنیچر کو غائب ہوتے ہوئے بیان کرتے ہیں۔'

انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ حقیقت 'آپ کو یہ احساس دلاتی ہے کہ نیٹو واقعی یوکرائنی تنازعے میں کس طرح ملوث ہے۔'

پینٹاگون نے اپنی پریس بریفنگ میں اس واقعے سے متعلق کوئی بامعنی معلومات فراہم نہیں کیں۔ اس نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ ڈرون کہاں تھا، یہ روسی فضائی حدود کے قریب کیا کر رہا تھا، آیا یہ مسلح تھا یا 'نگرانی' سے ہٹ کر یہ کس قسم کا مشن انجام دے رہا تھا۔

پینٹاگون کے ترجمان نے منگل کے حادثے کا جواب مضحکہ خیز طور پر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حادثہ روسی لڑاکا عملے کی جانب سے 'بچکانہ' 'غیر محفوظ' اور 'غیر پیشہ ورانہ' کارروائی کا نتیجہ تھا۔

یہ پرواز 'روٹین' تھی۔ گویا دوسری عالمی جنگ  کے بعد سے یورپ کی سب سے بڑی جنگ میں جنگی دستوں کے لیے اہدافی معلومات فراہم کرنا 'معمول' تھا۔

اس طرح کے بیانات کچھ بھی بیان نہیں کرتے۔ جیسا کہ رینڈ کارپوریشن کے ماہر سیاسیات سیموئیل چراپ نے وضاحت کی، 'میں شرط لگا سکتا ہوں کہ  ایم کیو-9 ایسے علاقے میں کام کر رہا تھا جو ماسکو کے لیے خاص فوجی اہمیت کا حامل تھا۔' اس نے مزید کہا کہ'روسیوں کے لیے اسکی  واضح فوجی وجہ تھی - یہ  کوئی بے ترتیب عمل نہیں تھا۔ اور روسی پائلٹ اپنی مرضی کی بجائے گراؤنڈ کنٹرول کی ہدایات پر عمل کر رہے ہوں گے۔

اس واقعے کو سمجھنے کے لیے اس کے سیاق و سباق کو سمجھنا ضروری ہے۔

20 جنوری کو امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مارک ملی نے عہد کیا تھا کہ یوکرین اور اس کے اتحادی 'روس کے زیر قبضہ یوکرین کو آزاد کرانے کے لیے جارحیت کرنے گے۔' اس واضح اعلان نے روس کی فوجی شکست کے لیے نیٹو اور امریکہ کی تمام  ساکھ کو دوا پر  لگا دیتا ہے۔

لیکن دو ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ اس مقصد کا امکان نہیں ہے یہاں تک کہ فنڈز اور ملٹری ہارڈ ویئر کے بڑے عزم کے باوجود بھی جو پہلے ہی تعینات کیے جا چکے ہیں تنازع میں امریکی مداخلت کے بڑے پیمانے پر توسیع کے بغیر اسے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

پیر کو ڈرون کو گرائے جانے سے ایک دن پہلے واشنگٹن پوسٹ نے اس تنازعے کا آج تک کا سب سے مایوس کن جائزہ شائع کیا۔

'یوکرین کے پاس ہنر مند فوجیوں اور جنگی سازوسامان کی کمی ہے کیونکہ نقصانات سے مایوسی بڑھ رہی ہے،' یہ اخبار کیمضمون کی سرخی تھی۔ اس میں لکھا گیا ہے، 'یوکرین کی فوجی قوت کا معیار جسے کبھی روس پر کافی برتری سمجھا جاتا تھا  ایک سال کی ہلاکتوں کی وجہ سے تنزلی کا شکار ہو گیا ہے جس نے بہت سے تجربہ کار جنگجوؤں کو میدان جنگ میں ہلاکتوں کے باعث  یوکرین کے کچھ حکام نے کیف کی نئے حملوں کی تیاری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ایک بہت زیادہ متوقع موسم بہار کا حملہ' اس وجہ سے ناکامی کا سبب ہوگا۔

اس نے مزید لکھا ہے 'امریکی اور یورپی حکام نے اندازہ لگایا ہے کہ گزشتہ سال کے اوائل میں روس کے حملے کے آغاز سے لے کر اب تک 120,000 یوکرینی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔'

میدان جنگ میں موجود فوجی اہلکاروں کے مطابق یوکرائنی افواج گولہ بارود کی بنیادی کمی کا شکار ہیں بشمول توپ خانے کے گولے اور مارٹر بم کے۔  واشگنٹن پوسٹ نے ایک  یوکرائنی کمانڈر سے انٹرویو لیتے ہوئے جس  نے کہا کہ 'جنگی تجربہ رکھنے والے چند فوجی' 'سب پہلے ہی ہلاک یا زخمی ہو چکے تھے۔'

کمانڈر نے مزید کہا، ' آپ ہمیشہ ایک معجزے پر یقین رکھتے ہیں،' یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ یہ 'قتل عام اور لاشیں' ہو سکتا ہے، لیکن ' بہرحال جوابی کارروائی ہوگی۔' اس نے اپنی یونٹ جو کہ 'تقریباً 500 فوجیوں پر مشتمل تھی اسکی صورت حال کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ  تقریباً 100 میدان جنگ میں مارے گئے اور 400 زخمی ہوئے، جس کی وجہ سے تمام یونٹ ختم ہو گیا۔'

امریکہ اور نیٹو طاقتوں کے لیے روس کے ساتھ تنازع میں یوکرین کے لوگوں کو اپنے مفادات کے لئے  چارے  کے طور پر استمعال کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ یوکرین میں امریکی فوجی سرمایہ کاری کے باوجود جنگ میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی موجودہ سطح  جس کے بارے میں برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے کہا تھا کہ اموات کی تعداد 'پہلی عالمی جنگ  کے خاتمے کی سطح' کے قریب پہنچ رہی ہے۔ دونوں ملکوں کیافواج کے درمیان توازن  روس کی جانب بڑھ رہا ہے جس کی آبادی  یوکرین سے تین گنا زیادہ ہے۔

پینٹاگون ڈاکومینٹس  کے طور پر شائع ہونے والی امریکی حکومت کی اندرونی دستاویزات کے مطابق ویتنام میں امریکی مداخلت کی سب سے بڑی وجہ 'ذلت آمیز شکست' سے بچنا تھا۔ یہ صرف ایک ایسا امکان ہے جس کا امریکہ کو سامنا ہے جب تک کہ وہ جنگ میں اپنی شمولیت کو بڑے پیمانے پر نہیں بڑھاتا۔

بس اس طرح کی توسیع کو عملی جامع پہنایا جا  رہا ہے۔ منگل کو  پینٹاگون کی جانب سے ڈرون کو گرانے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد  پولیٹیکو اخبار نے رپورٹ کیا کہ دونوں امریکی سیاسی جماعتوں کے سینیٹرز کے ایک گروپ نے پینٹاگون سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوکرین کو F-16 لڑاکا طیارے بھیجنے کی تیاری کرے۔

یہ اعلان کرتے ہوئے کہ 'ہم اب تنازعہ کے ایک نازک موڑ پر ہیں'، سینیٹرز نے پینٹاگون سے مطالبہ کیا کہ 'یوکرین کو F-16 طیارے فراہم کرنے پر سختی سے غور کریں۔'

بالآخر جنگ کے میدان میں نیٹو فوجیوں کی براہ راست تعیناتی کے بغیر تنازع میں امریکہ کے اہداف کا حصول ناممکن ہے۔

لیکن اس طرح کی جنگ میں پوری طرح داخل ہونے کی کارروائی کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے جسکی اس وقت  تک  مکمل کمی ہے کے پیش نظر مطلوبہ مداخلت کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے کچھ بڑے واقعات کی ضرورت ہوگی۔

امریکی نگرانی کا ڈرون جس بھی مشن پر پرواز کر رہا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا تعلق تنازعہ میں واشنگٹن کے اگلے اقدامات سے تھا  جس کی وجہ سے اب تک کا سارا خون بہہ جانے کا خطرہ  ایک پیشن گوئی سے کم نہیں ہے۔

یہ جنگ جس کے پہلے ہی سے سابق سوویت یونین کے لوگوں کے لیے ایسے ہولناک نتائج برآمد ہو چکے ہیں تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ اسے روکنا چاہیے۔  جو کہ محنت کش طبقے کی بڑھتی ہوئی جدوجہد پر مبنی اور سوشلسٹ پروگرام سے لیس ہو اور  جنگ کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر بین الاقوامی تحریک چلانے کی فوری ضرورت ہے۔

Loading