ہ 23 مارچ 2023 کو انگریزی میں شائع ہونے 'Chinese and Russian presidents meet as US targets both countries' والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنا حال ہی میں ماسکو کا بہت سرگرم دو روزہ دورہ ختم کیا ہے اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقاتیں کی ہیں جس میں دونوں رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ ان کا تعاون 'تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے' جو امریکہ کی مخالفت میں اور اقوام متحدہ کی بنیاد پر 'بین الاقوامی نظام کی حفاظت' کے اپنے عزم کا اعلان کیا۔
ان کے مشترکہ بیان میں نہ صرف دوطرفہ اقتصادی اور سٹیٹجک تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے طے پانے والے معاہدوں کا خاکہ پیش کیا گیا بلکہ یہ واشنگٹن کے جنگجو پروپیگنڈے کے خلاف ایک سفارتی جوابی کارروائی کے مترادف ہے کیونکہ واشنگٹن انتہائی لاپرواہی سے یوکرین میں روس کے خلاف تنازع کو بڑھا رہا ہے اور چین کے ساتھ جنگ کی تیاریوں کو تیز کر رہا ہے۔
دونوں رہنمائوں نے واشنگٹن کو نشانہ بناتے ہوئے 'امریکہ پر زور دیا کہ وہ اپنی یکطرفہ فوجی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی سلامتی اور عالمی اسٹیٹجیک استحکام کو نقصان پہنچانا بند کرے۔'
امریکی میڈیا شی اور پیوٹن کو 'بین الاقوامی قوانین پر مبنی آرڈر' یعنی دوسری عالمی جنگ کے بعد کے آرڈر کے لیے ایک خطرہ کے طور پر پیش کرتا ہے جو قوانین واشنگٹن کی جانب سے مرتب کیے گے تھے۔ لیکن چین اور روس طویل عرصے سے جاری تنازعات اور اختلافات کے باوجود باہمی کمزوری کی وجہ سے یکجا ہو رہے ہیں ناکہ ایک بڑی طاقت کہ طور پر بلکہ انکی قربت امریکی جارحیت اور اشتعال انگیزیوں کے خلاف انہیں ایک ساتھ چلنے پر آمادہ کرتی ہے جس سے دنیا میں ایٹمی طاقتوں کے درمیان عالمی جنگ میں الجھنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
یوکرین پر روسی حملہ قطعی طور پر بھی کوئی ترقی پسندانہ اقدام نہیں تھا۔ لیکن تباہ کن جنگ کی سب سے بڑی ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے جس نے نیٹو کو روس کی سرحدوں کی طرف دھکیل دیا اور یوکرائنی فوج کو اربوں ڈالر فراہم کیے تاکہ روس کو غیر مستحکم کیا جاسکے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ماسکو پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں اور مؤثر طریقے سے اسے عالمی مالیاتی ادروں سے خارج کر دیا ہے۔
حیران کن منافقت کے ساتھ امریکہ نے بین الاقوامی جنگی جرائم کی عدالت پر زور دیا ہے کہ وہ پیوٹن کے لیے مبینہ جنگی جرائم کے لیے گرفتاری کا وارنٹ جاری کرے — یہ اقدام جو باذات خود بائیڈن سمیت امریکی صدور کے لیے کہیں زیادہ مناسب ہے۔
تاہم واشنگٹن روس کے خلاف جنگ کو چین کے ساتھ تنازعہ کا پیش خیمہ سمجھتا ہے جسے وہ اپنے عالمی تسلط کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ یوکرائن کی جنگ کی پیش رفت کی طرح بائیڈن انتظامیہ چین کے ساتھ جنگ کے بہانے بیجنگ کو تائیوان پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کرنے کے لیے آسی طرح کے عمل کو دھرا رہی ہے جو اس نے روس کو یوکرین پر حملے کے لیے اکھسانے کے لیے کیا تھا۔
امریکہ پورے خطے میں اسلحے کی تیاری میں تیزی سے مصروف ہے بشمول تائیوان میں اشتعال انگیزی اور ایشیا میں بشمول برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسے نیٹو ارکان کے اشتراک کے ساتھ اپنے فوجی اتحاد کو مضبوط کر رہا ہے اور ساتھ ہی بائیڈن انتظامیہ نے ٹرمپ کے تحت چین پر عائد بڑے پیمانے پر محصولات کو جاری رکھا ہوا ہے اور جدید سیمی کنڈکٹرز اور متعلقہ آلات کی فروخت پر پابندی لگا کر چینی ہائی ٹیک صنعتوں کو تباہ کرنے کی پرزور کوشش میں مصروف ہے۔
ماسکو میں شی اور پیوٹن سربراہی اجلاس امریکی صدر رچرڈ نکسن اور ان کے قومی سلامتی کے مشیر ہینری کسنجر کی طرف سے 50 سال قبل پیش کی گئی امریکی جیوپولیٹکل حکمت عملی کے خاتمے کی علامت ہے جس نے چین کے ساتھ تعلقات استوار کرتے ہوئے جو درحقیقت سویت یونین کے خلاف ایک اتحاد تھا۔ اس معاہدے پر نکسن کے بیجنگ کے دورے اور فروری 1972 میں ماؤ زے تنگ کے ساتھ ملاقات کے بعد اسے عملی کر دیا گیا۔
ماؤ کے اس معاہدے نے بعد کی دہائیوں میں اقتصادی عالمگیریت کے عروج کے دوران چین میں سرمایہ دار مارکیٹ کی بحالی کے عمل کو جمبش دی۔ سوویت یونین پر ان عالمی عمل کے اثرات اور ایک ملک میں سوشلزم کے قوم پرست عقیدہ کے بحران نے بھی وہ بحران پیدا کیا جس کی وجہ سے سوویت یونین کی تحلیل ہوئی۔
امریکہ کی پوری طرح سے مرتب کی گی حکمت عملی جو بالآخر 1991 میں سوویت یونین کی تحلیل اور روس، یوکرین اور دیگر سابق سوویت جمہوریہ کو علیحدہ قومی ریاستوں کے طور پر قائم کرنے اور بڑے پیمانے پر معاشی اور سماجی رجعت کا باعث بنی۔ امریکی سامراج کے ساتھ ماؤ کے معاہدے نے چین میں سرمایہ دارانہ بحالی کے عمل کا دروازہ بھی کھول دیا جیسا کہ روس میں پیداوار کی عالمگیریت سے ہوا تھا۔
سوویت یونین کے خاتمے کے 30 سال سے زیادہ عرصے کے بعد امریکی سامراج جس کو مسلسل تاریخی زوال اور اندرون ملک میں بے پناہ معاشی اور سماجی بحران کا سامنا ہے نے گزشتہ دہائی کے دوران جیو پولیٹیکل پالیسی کو گھما کر الٹا کر دیا ہے۔ روس اور چین جو اب دو سرمایہ دارانہ طاقتیں ہیں نے امریکہ کے زیر تسلط عالمی نظام سے ایک حد تک آزادی برقرار رکھی ہے جو واشنگٹن کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ خاص طور پر چین کے معاملے میں جس کی معیشت سستی چینی مزدوری سے انتہائی منافع کمانے کے خواہشمند امریکی اور بین الاقوامی کارپوریشنوں کی جانب سے سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی بڑے پیمانے پر آمد کے نتیجے میں بے تحاشا بڑھ گی ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ شی ہی ہیں جو امریکہ کی مخالفت میں چین کو عالمی سطح پر امن ساز کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کا ایک اہم پہلو بیجنگ کی جانب سے گزشتہ ماہ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی اور دونوں ممالک کو تباہ کرنے والی جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے لیے اعلان کردہ تجاویز ہیں۔
منگل کو شی کے ساتھ بات چیت کے بعد پیوٹن نے چینی امن منصوبے کو قبول کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 'اسے یوکرین میں پرامن تصفیہ کی بنیاد کے طور پر لیا جا سکتا ہے بشرطے کہ مغرب اور کیف اس کے لیے تیار ہوں گے۔' مشرقی یورپ میں نیٹو کے تجاوزات پر بمشکل چھپی ہوئی تنقید میں مشترکہ بیان میں 'فوجی، سیاسی اور دیگر فوائد کے حصول میں دوسرے ممالک کے جائز سیکورٹی مفادات کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی ملک یا ممالک کے گروپ' کی مخالفت کی گئی۔
یہ حیرت کی بات نہیں کہ امریکہ نے چین کے امن منصوبے پر تنقید کی کیونکہ اس نے ماسکو کو گھٹنے ٹیکنے کے لیے جنگ کو استعمال کرنے کے واشنگٹن کے مقاصد کو ختم کر دیا ہے۔ سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے جنگ بندی کے مطالبے کی مذمت کی ہے 'جس میں یوکرین کی سرزمین سے روسی افواج کو ہٹانا شامل نہیں ہے' اور دعویٰ کیا کہ یہ مؤثر طریقے سے 'روسی فتح کی توثیق' اور 'صدر پوٹن کو آرام کرنے اور اپنے فوجیوں کو بحال کرنے کی اجازت دے گا۔ '
بلنکن نے پیوٹن کی گرفتاری کے وارنٹ کو بھی اس لیے استمعال کیا جو شی کے دورے سے چند روز قبل جاری کیے گے تاکہ چین پر دباو اور تنقید کر سکیں کہ وہ 'کریملن کو یوکرین میں ہونے والے مظالم کے لیے شی کو اس ناکامی پر جوابدہ ٹھہراہیں اور یہ کہ ان جرائم کی مذمت کرنے کے بجائے وہ روس پر سفارتی پردا ڈالا رہا ہے کہ وہ ایسے ہی جرائم جاری رکھے'
اس کے باوجود کہ کیف امریکی موقف کے گن گاتا ہے تاہم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ وہ چین کے ساتھ اس کی تجاویز کے بارے میں 'مذاکرات' کے لیے تیار ہے۔ شی کی ماسکو آمد سے قبل چینی اور یوکرائنی صدور کے درمیان ایک ممکنہ آن لائن ویڈیو کال پر بحث کی گئی۔ یوکرائن کے ایک سینئر اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے سی این این نے منگل کو اطلاع دی کہ دونوں ممالک کے درمیان اس طرح کی بات چیت جاری ہے لیکن بات چیت میں فل حال کچھ طے نہیں کیا گیا۔
شی اور پیوٹن کے مشترکہ بیان میں جغرافیائی سیاسی مسائل کی ایک وسیع فہرست پر روشنی ڈالی گئی جس پر دونوں نے اتفاق کیا اور معاہدہ میں اقتصادی تعاون کے شعبوں کو سہولت فراہم کی جائے گی۔
دونوں رہنماؤں نے امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان آکس(اے یو کے یو ایس) معاہدے اور آسٹریلیا کی بحریہ کو جوہری طاقت سے چلنے والی حملہ آور آبدوزوں کی فراہمی کے لیے حال ہی میں اعلان کردہ ٹائم لائن کے بارے میں اپنی 'سنگین تشویش' کا اظہار کیا جو واضح طور پر چین کے خلاف نشانہ ہیں۔ انہوں نے 'ایشیا پیسیفک ممالک کے ساتھ نیٹو کے فوجی سیکورٹی تعلقات کو مسلسل مضبوط بنانے پر بھی اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا جس سے علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچتا ہے۔'
پیوٹن اور شی نے چین کی روسی توانائی کی خریداری اور منگولیا کے پار چین تک دوسری بڑی گیس پائپ لائن — پاور آف سائبیریا-2 کی تعمیر کو مزید فروغ دینے کا بھی اعلان کیا۔ روس اس کے بدلے میں چین میں کئی نئے نیوکلیئر پاور ری ایکٹر بنانے میں مدد فراہم کرئے گا۔ مشترکہ بیان میں سول ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر کی پیداوار، غیر آہنی دھات کاری، خلائی تحقیق، بائیو ٹیکنالوجی اور فارماسیوٹیکل کے ساتھ ساتھ سائنس سے متعلق دیگر شعبوں میں دیگر بڑے مشترکہ منصوبوں کو شامل کیا گیا ہے۔
امریکہ اور اس کے قریبی اتحادیوں کے شدید دباؤ کے تحت روس اور چین اقتصادی، سیاسی اور عسکری طور پر ایک ساتھ جوڑتے جا رہے ہیں۔ تازہ ترین شی پیوٹن سربراہی اجلاس ایک اور واضع علامت ہے جو تیزی سے ابھر کر سامنے آ رہی ہے کہ وہ امریکی سامراج کی طرف سے جاری عالمی جنگ کی جانب پیش رفت میں اسکے مخالف بلاکس کے طور پر سامنے آئے ہیں لیکن تاہم اس کے لیے چینی یا روسی حکومتوں کے پاس کوئی حقیقی ترقی پسند حل موجود نہیں ہے۔
واحد سماجی قوت جو دنیا کو ایٹمی تباہی (ہولوکاسٹ) سے روکنے کی اہلیت رکھتی ہے وہ بین الاقوامی محنت کش طبقہ ہے جو سوشلسٹ نقطہ نظر سے ایک متحد جنگ مخالف تحریک کی تعمیر کے ذریعے اس سرمایہ دارانہ منافعے کے نظام اور دنیا کی حریف قوموں میں تقسیم جو کہ جنگ کی اصل بنیادی وجہ ہے کا خاتمہ کر سکتا ہے۔
