اُردُو
Perspective

فن لینڈ کی نیٹو کی رکنیت روس کے خلاف جنگ کی شدت میں بڑے اضافے کی تیاری کر رہی ہے۔

یہ 3 اپریل 2023 کو انگریزی میں شائع ہونے 'Finland’s NATO membership prepares major escalation of war against Russia' والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔

جمعے کے روز نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے اعلان کیا کہ فن لینڈ چند دنوں کے اندر امریکی زیر قیادت نیٹو فوجی اتحاد کا 31 واں رکن بن جائے گا ترکی کی جانب سے توثیق کے ووٹ کی منظوری کے بعد نیٹو  جسے اپنے آخری ممبر کی تجویز کی منظوری کی ضرورت تھی اُسے پورا کر دیا گیا ہے۔

اسٹولٹن برگ نے فخر کیا کہ یہ 'نیٹو کی جدید تاریخ میں توثیق کا تیز ترین عمل تھا' اور اسے  جلد ہی “ کچھ دنوں میں“ عملی جامہ پہنا دیا جائے گا۔  فن لینڈ کے الحاق کی تیز رفتاری کوئی حادثہ نہیں ہے۔ اس کا یوکرین میں موسم بہار کی کارروائی کے لیے امریکی منصوبوں سے گہرا تعلق ہے جس کے ساتھ روس کی سرحد پر ایک بڑی فوجی تیاری ہوگی۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ درمیان میں 20 مارچ 2023 سموار کو برسلز میں ہونے والی میٹنگ سے قبل فن لینڈ کے وزیر دفاع اینٹی کائیکونن،دائیں اور فن لینڈ کے وزیر خارجہ پیکا ہاوسٹو بائیں جانب کھڑے بات کر رہے ہیں۔ (اے پی فوٹو/اولیور میتھیس) [AP Photo/Olivier Matthys]

امریکہ جرمنی اور نیٹو کے دیگر ارکان نیٹو ممالک میں تربیت یافتہ ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور ہزاروں یوکرائنی فوجیوں کو اس جنگ  میں شامل کر رہے ہیں اور یہاں تک کہ وہ روسی سرحد کے قریب نیٹو کے دسیوں ہزار فوجیوں کو تعینات کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

نیٹو کی پانچ ریاستوں کی سرحدیں اس وقت روس سے لگتی ہیں: ایسٹونیا، لٹویا، لتھوانیا، پولینڈ، ناروے اور اب فن لینڈ کے شامل ہونے کے بعد نیٹو کی سرحد مؤثر طریقے سے دگنی ہو جائے گی۔ اس ملک کی روس کے ساتھ یورپ کی کسی بھی ریاست کی سب سے بڑی زمینی سرحد 830 میل پر  مشتمل ہے۔

فن لینڈ کی سرحد سینٹ پیٹرزبرگ سے صرف 100 میل کے فاصلے پر ہے جو روس کے اہم ترین اقتصادی اور سیاسی مراکز میں سے ایک ہے۔ فن لینڈ روس کی طرف سے استعمال ہونے والی مواصلات کے اہم سمندری راستوں کو کنٹرول کرتا ہے اور یہ بحیرہ بالٹک اور آرکٹک پر تسلط کے لیے جدوجہد میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

روس کے ساتھ نیٹو کی توسیع شدہ زمینی سرحد کو بڑے پیمانے پر فوجی اڈے میں تبدیل  کیا جا رہا ہے۔ 18 مارچ کو پولیٹیکو جریدے نے اپنی رپورٹ  میں کہا کہ  'آنے والے مہینوں میں اتحاد مشرقی کنارے کے اتحادیوں کے ساتھ سازوسامان کو ذخیرہ کرنے کی کوششوں کو تیز کرے گا اور دسیوں ہزار افواج کو نامزد کرے گا جو مختصر نوٹس پر اتحادیوں کی مدد کے لیے پہنچ سکیں۔'

نیٹو کی 'مشرقی کنارے'  کی جانب تیزی سے حرکت دوسری عالمی  جنگ  میں مشرقی محاذ کی جنگی لکیروں سے مشابہت رکھتی ہے جو فن لینڈ سے یوکرین تک پھیلی ہوئی تھی۔ فن لینڈ کو نیٹو اتحاد میں شامل کرنے کے اقدام کی بہت زیادہ تاریخی اہمیت ہے کیونکہ یہ ملک دوسری عالمی  جنگ  کے دوران نازی جرمنی کا کلیدی اتحادی تھا اور اس نے سوویت یونین کے خلاف تباہی کی جنگ میں اہم کردار ادا کیا بشمول لینن گراڈ کے محاصرہ کے جسے اب سینٹ پیٹرزبرگ کہا جاتا ہے۔

نیٹو کو مزید وسعت دینے کے اقدام نے بائیڈن انتظامیہ اور میڈیا کی طرف سے 'غیر اشتعال انگیز جنگ' کے فروغ کے تمام دعووں کو بھی کم کر دیا۔ وائٹ ہاؤس کی اچھی طرح سے پھیلے جانے والے بیانیے کے مطابق یوکرین میں جنگ فروری 2022 میں ایک فرد کی جانب  سے شروع کی گئی اسکی اپنی ' پسند کی جنگ' ہے۔ گزشتہ سال سے  وائٹ ہاؤس نے لامتناہی طور پر اسے  دہرایا ہے کہ جنگ  کا آغاز پیوٹن نے کیا تھا اور صرف پیوٹن  ہی اسے ختم کر سکتے ہیں—روسی فوجوں کو وہاں سے ہٹا کر جہاں وہ پہلے موجود تھے  وہاں واپس چلی جائیں۔

لیکن جب  یوکرائنی سرحد پر امریکہ، نیٹو اور روس کے درمیان تنازعہ پھوٹ پڑا  یہ درحقیقت امریکی سامراج کی طرف سے روس کو گھیرنے کمزور کرنے اور بالآخر اسے توڑنے اور ختم کرنے کی دہائیوں سے جاری مہم کے نتیجے کا حصہ ہے اور چین کے ساتھ تنازعہ کی ایک سلسلہ کی کڑی  ہے۔

سوویت یونین کی تحلیل کے دوران  اور اس کے بعد امریکہ نے مشرقی یورپی ریاستوں کو نیٹو میں شامل کرنے کے لیے سرگرم عملی اقدامات اٹھائے اور اسکے ساتھ ساتھ  روس کے اندر قوم پرست تحریکوں کو بھی ہوا دی تاکہ عدم استحکام پیدا کرتے ہوئے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جا سکے۔

1990 کے بعد سے 13 ممالک نیٹو میں شامل ہو چکے ہیں اور مؤثر طریقے سے اس کی رکنیت کو دوگنا کر دیا ہے۔ اس وقت کے دوران نیٹو کی سرحد 800 میل مشرق کی طرف منتقل کر دی گئی ہے۔

1998 میں امریکی سینیٹ نے پولینڈ، ہنگری اور جمہوریہ چیک کو شامل کرنے کے لیے نیٹو کو توسیع دینے کے حق میں ووٹ دیا۔ اس وقت کے سینیٹر جو بائیڈن نے کہا کہ ’’درحقیقت یہ امن کے مزید 50 سالوں کا آغاز ہے  15 جون 2001  کو  پولینڈ کے دارلخلافہ وارسا میں ایک تقریر میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اپنے 'نیٹو کو وسعت دینے کے منصوبے' کا اعلان کیا تاکہ 'بالٹک سے بحیرہ اسود تک' ممالک کا ایک حلقہ بنایا جا سکے۔

2004 میں نیٹو نے دوبارہ توسیع کرتے ہوئے مزید سات ممالک کو شامل کیا: جن میں ایسٹونیا، لٹویا، لتھوانیا، سلوواکیہ، سلووینیا، بلغاریہ اور رومانیہ تھے۔ یہ سارے مشرقی یورپی ممالک سرد جنگ کے دوران یا تو سوویت یونین یا اس کی سیٹلائٹ ریاستوں کا حصہ رہے تھے۔

کروشیا اور البانیہ نے 2009 میں نیٹو میں شمولیت اختیار کی۔ مونٹی نیگرو نے 2017 میں شمولیت اختیار کی اور شمالی مقدونیہ نے 2020 میں شمولیت اختیار کی۔

یوکرین کے خلاف جنگ خود بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے روس کی طرف سے اس بات کی ضمانت کے مطالبے پر بات چیت کرنے سے انکار کی وجہ سے ہوئی تھی کہ یوکرین نیٹو کا رکن نہیں بنے گا۔ سامراجی گھیراؤ  کے رد عمل کے طور پر  پیوٹن کا یہ حملہ  حکومت کا رجعتی اور لاپرواہ اقدام  تھا جو کہ روسی اشرافیہ کے ایک دھڑے کی نمائندگی کرتا تھا۔

1997 میں، جب کلنٹن انتظامیہ چیک ریپبلک، ہنگری اور پولینڈ کو نیٹو میں شامل کرنے کی مہم شروع کر رہی تھی تو جارج ایف کینن سرد جنگ کے حکمت عملی اور 'محاصرے ' کے نظریہ کے مصنف نے تسلیم کیا کہ 'یہ پلان  کسی نہ کسی جگہ اور کہیں فصلے کا نتیجہ ہے کہ  نیٹو کو روس کی سرحدوں تک پھیلایا جائے گا۔  اُس  نے متنبہ کرے ہوئے کہا کہ 'نیٹو کی توسیع سرد جنگ کے بعد کے پورے دور میں امریکی پالیسی کی سب سے بڑی غلطی ثابت  ہوگی۔'

آنے والی دو دہائیوں سے پوری امریکی سیاسی اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا نے نیٹو کی توسیع اور روس کے ساتھ تنازعہ کو ہوا دینے کی کوششوں کو ویلکم کیا۔ یہ جنگی جنون اس اعلان کے ساتھ کیا گیا تھا کہ نیٹو کی توسیع کی مخالفت 'روسی پروپیگنڈا' ہے۔

پچھلے سال شروع ہونے والے تنازعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے  ماہر سیاسیات جان میئر شیمر نے لکھا کہ 'مغرب میں مرکزی دھارے کا نظریہ یہ ہے کہ وہ ایک غیر معقول، آگاہی کی کمی کے باعث  ہے جو سابق سوویت یونین کے سانچے میں ایک عظیم تر روس بنانے پر تلا ہوا ہے۔  اس طرح  وہ اکیلا ہی یوکرین کے بحران کی پوری ذمہ دار ہے۔

لیکن اس نے مزید کہا کہ 'لیکن وہ کہانی غلط  تھی۔ فروری 2014 میں شروع ہونے والے اس بحران کا بنیادی طور پر مغرب اور خاص طور پر امریکہ ذمہ دار ہے۔ یہ اب ایک ایسی جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے جس سے نہ صرف یوکرین کو تباہ کرنے کا خطرہ ہے بلکہ روس اور نیٹو کے درمیان ایٹمی جنگ میں بڑھنے کا بھی امکان بڑھ گیا ہے۔ '

جنگ کے بارے میں امریکی میڈیا کا پورا بیانیہ اس کی سابقہ ​​تاریخ کو نظر انداز کرتا ہے اس کوشش میں کہ جنگ کے بارے میں تمام عقلی سوچ کو جنگ کے حامی پروپیگنڈے کے سیلاب میں غرق کر دیا جائے۔

جنگ کی چوتھائی صدی کے کتاب کے دیباچے: عالمی بالادستی کے لیے یو ایس کی  پیش قدمی 1990-2016   میں ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کے  انٹرنیشنل ایڈیٹوریل بورڈ کے چیئرمین ڈیوڈ نارتھ نے اس وقت کے صدر براک اوباما کے اس اعلان کی اہمیت کے بارے میں لکھا کہ امریکہ نیٹو کے رکن ایسٹونیا کے دفاع میں جنگ کی

جانب قدم اٹھائے گا۔

امریکی آبادی کے کتنے فیصد  یہ پوچھنا ضروری سمجھتے ہیں کہ صدر براک اوباما نے چھوٹے بالٹک ملک اور روس کے درمیان تنازعہ کی صورت میں ایسٹونیا کے دفاع کے لیے امریکہ نے باضابطہ طور پر جنگ کرنے کا عہد کیا ہے؟ میڈیا نے شائستگی سے صدر سے یہ پوچھنے سے گریز کیا ہے کہ امریکہ اور روس یا چین یا دونوں کے درمیان ایک ہی وقت میں ایٹمی جنگ کی صورت میں کتنے انسان مارے جائیں گے۔

فن لینڈ کو شامل کرنے کے لیے نیٹو کی مزید توسیع سے جوہری ہتھیاروں سے لیس دو سب سے بڑی طاقتوں امریکہ اور روس کے درمیان براہ راست جنگ کا خطرہ ایک نئی سطح پر جا پپہنچا ہے۔

یوکرائن کی جنگ میں لاکھوں لوگوں کی جانیں جانے کے باوجود امریکہ اس تنازعے کو بڑے پیمانے پر پھیلانے پر تلا ہوا ہے  جس سے پورے یورپ اور پوری بنی نوع انسان کو تباہی کا خطرہ ہے۔ اس جنگ کو ہر حال میں روکنا چاہیے۔ محنت کش طبقے کی بڑھتی ہوئی جدوجہد پر مبنی اور سوشلسٹ پروگرام سے لیس جنگ کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر بین الاقوامی تحریک چلانے کی فوری ضرورت ہے۔

Loading