یہ 13 اپریل 2023 کو انگریزی میں 'US operations in the Philippines threaten war with China' شائع ہونے والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔
منگل کو ریاستہائے متحدہ امریکہ اور فلپائن نے دونوں ممالک کی جانب سے اب تک کا سب سے بڑا مشترکہ جنگی کھیل شروع کیا گیا ہے جس میں 17,500 فوجی شامل تھے جو کہ تقریباً 12,000 امریکی 5,000 فلپائنی اور 111 آسٹریلوی پر مشتمل تھے۔ 18 دن تک جاری رہنے والی فوجی کارروائیوں سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن مستقبل قریب میں چین کے ساتھ جنگ میں جانے کی تیاری کر رہا ہے۔
فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے گزشتہ سال انتخاب کے بعد سے ڈرامائی طور پر فلپائن کی خارجہ پالیسی کو واشنگٹن کی جانب دوبارہ موڑ دیا ہے جس نے چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی کوشش کرنے والے روڈریگو ڈوٹیرٹے کے چھ سالہ دور صدارت کے دوران امریکہ کے ساتھ خراب تعلقات کو بحال کیا ہے۔ مارکوس جونیئر ملک کے سفاک ڈکٹیٹر کا بیٹا ہے جس نے ڈیڑھ دہائی تک حکومت کی اور وہ خود بھی اپنے والد کی حکومت کی طرح بہت سے جرائم ارتکاب کرنے کا مجرم ہے۔ اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکی عدالتوں میں 353 ملین ڈالر کے توہین عدالت کے حکم کا سامنا بھی ہے لیکن بائیڈن انتظامیہ واشنگٹن کے جنگی مقاصد کے حصول میں اس پر پردہ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔
جنگی مشقیں تائیوان کے صدر سائی انگ وین کے امریکہ کے اشتعال انگیز دورے کے بعد شروع ہو رہی ہیں۔ بیجنگ نے طویل عرصے سے واضح کیا ہے کہ تائیوان کے جزیرے پر چین کا علاقائی دعوی ایک ریڈ لائن ہے جس کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سائی کا دورہ امریکہ جہاں ان کے ساتھ خودمختار قوم کے نمائندے جیسا سلوک کیا گیا اور جہاں تائیوان کے فوجیوں کے لیے امریکی فوجی تربیت پر کھل کر بات کی گئی خطرناک حد تک امریکہ کی دیرینہ ون چائنہ پالیسی کو مردہ خانے تک پہنچا دیا ہے۔
بیجنگ نے جنگ کے خطرے کو بڑھاتے ہوئے عسکریت پسندی کے ساتھ جواب دیا۔ پیپلز لبریشن آرمی نے تائیوان کے ارد گرد فضائی اور بحری مشقیں کیں اور جزیرے پر مصنوعی حملے کیے چین کی طرف سے میزائلوں سے تائیوان کو نشانہ بناتے اور اسکے پھٹنے کی ویڈیو جاری کی گئیں۔
ایشیا پیسیفک کا خطہ واشنگٹن کی مسلسل اشتعال انگیزیوں سے بارود کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے اور جس سے چنگاریاں بھڑ رہی ہیں۔
پچھلے دو سالوں میں واشنگٹن نے دنیا بھر میں بے مثال جنگی مشقوں کا انعقاد کیا ہے جن میں سے ہر ایک کو روس اور چین کے ساتھ عالمی تنازعات کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ابھی پچھلے مہینے واشنگٹن نے جنوبی کوریا میں ریکارڈ کی سب سے طویل مسلسل فوجی مشقیں کیں جو چین کے ساتھ جنگ کی تیاری کے لیے یوکرین کی جنگ کے تجربات پر مبنی تھیں۔
فلپائن میں مشترکہ جنگی کھیلیں سالانہ مشقیں ہیں جنہیں بالیکاتن (کندھے سے کندھے سے ملانے کے لیے ٹیگالوگ) کہا جاتا ہے جو اب اپنے 38 ویں سال میں داخل ہو چکی ہیں۔ دوسری جگہوں پر واشنگٹن کے جنگی کھیلوں کی طرح بالیکاتن کا کردار بنیادی طور پر بدل گیا ہے اور فلپائن کے اخبار ڈیلی انکوائرر نے لکھا ہے کہ مشقیں 'روس یوکرین جنگ سے سیکھے گئے اسباق کا اطلاق کر رہی ہیں۔'
گزشتہ دہائیوں میں مشقیں زیادہ تر اندرونی دباؤ پر مرکوز تھیں۔ بالیکاتن کی کارروائیاں کمیونسٹ شورش، جنوبی فلپائن میں مسلح مورو علیحدگی پسند تحریک اور عام طور پر گھریلو بدامنی کو دبانے کے لیے تیار کی گئی تھیں۔
اس سال کی بالیکاتن مشقیں عالمی جنگ کا سامان ہیں۔ امریکی اور فلپائن کے فوجی ترجمان نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ واشنگٹن فلپائن کو وہی ہارڈ ویئر فراہم کر رہا ہے جو وہ یوکرین کو بھیج رہا تھا۔ ہیمرس توپیں، پیٹریاٹ اور جیولن میزائل، ایونجر ایئر ڈیفنس سسٹم اور ریپر ڈرون اس تمام جدید اسلحوں کو واضح طور پر چین کو نشانہ بنانے والی مشقوں میں شامل کیا گیا تھا۔
یہ مشقیں چین کے ساتھ جنگ کے لیے تیار کی گئی ہیں جو یا تو بحیرہ جنوبی چین یا تائیوان میں بھٹرک سکتی ہیں۔ فلپائن کی مسلح افواج کے ریٹائرڈ چیف آف سٹاف ایمانوئل بوٹیسٹا نے پریس کو بتایا کہ 'فلپائن کے لیے یہ ناممکن تھا کہ وہ تائیوان یا بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے سے دور رہے تو اگر آپ جنگ کو روک نہیں سکتے پھر جنگ کی تیاری کرو۔'
اگلے دو ہفتوں کے دوران امریکی اور فلپائنی فوجی دستے بحیرہ جنوبی چین میں براہ راست فائر ڈرل کریں گے جس سے اسکاربورو (پیناتاگ) شوال کے جزیرے قریب پانی میں ایک فوجی جہاز کو ڈبویا جائے گا جو ماضی میں بہت زیادہ تنازعات کا باعث رہا ہے۔ وہ ان ساحلی مشقوں میں یہ اجاگر کریں گے کہ دشمن فوجی دستوں سے جزیروں کو دوبارہ حاصل کرنے گئے۔
تبدیل شدہ جنگی مشقیں اس اعلان کے تناظر میں کی گی ہیں کہ منیلا واشنگٹن کو فلپائن میں بہتر دفاعی تعاون کے معاہدے (ای ڈی سی اے) کے تحت چار اضافی بیس فراہم کرے گا۔ اس سے فلپائن میں امریکی بیسنگ سہولیات کی کل تعداد نو ہو جائے گی۔
چین کے ساتھ جنگ کے لیے چار نئے اڈوں کا انتخاب کیا گیا۔ جو تین شمالی ترین صوبوں کاگیان اور ازابیلا میں ہیں، تائیوان سے باشی رودبار(چینل) کے بالکل پار اور چوتھا پلوان کے مغربی کنارے پر ہے یہ تمام فوجی اڈوں کو جتنا ممکن تھا کہ یہ متنازعہ سپراٹلی جزائر کے قریب قائم کریں۔
یہ فوجی اڈے جو مکمل طور پر امریکہ کے زیر کنٹرول ہوں گے۔ واشنگٹن سہولیات کو 'بہتر انٹرآپریبلٹی' کے لیے 'گھومنے والی موجودگی' کی خدمت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ تاہم ای ڈی سی اے کی شرائط سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کرایہ کے بغیر سہولیات ہیں جو خصوصی طور پر امریکیوں کے زیر کنٹرول ہیں اور امریکی ماورائے علاقائی خودمختاری کے تابع ہیں جو واشنگٹن کی جنگی مہم کے نوآبادیاتی اثاثے ہیں۔
پیر کو 1942 میں جاپانی افواج کے سقوط بٹان(جزیرہ) کی یاد منائی گئی۔ جاپانی قبضے اور پھر اس کے نتیجے میں امریکی افواج کی طرف سے ' آزاد کرنے' پھر امریکی فوج کی واپسی کے دوران ملک کو تباہ کر دیا۔ منیلا، برلن اور وارسا کی یہ دارالحکومتیں جنگ کے دوران سب سے زیادہ تباہ ہونے والے میں سے ایک تھے۔
ملک میں اس بات پر شدید تشویش اور خوف پایا جاتا ہے کہ فلپائن کو ایک اور عالمی جنگ میں گھسیٹا جا رہا ہے۔ جیسے ہی امریکی فوجیں ملک میں پہنچیں منیلا پولیس نے امریکی سفارت خانے کے باہر پرامن احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو پکڑ لیا اور انہیں گھسیٹ کر جیل بھیج دیا۔
ایک یادگاری تقریب میں کی گئی تقریر میں مارکوس نے اعلان کیا 'ہم اپنے اڈوں کو کسی بھی جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔' تاریخ اس دعوے کو جھوٹ قرار دیتی ہے۔ کیونکہ فلپائن میں امریکی اڈوں کلارک ایئربیس اور سبک نیول بیس امریکی سلطنت کے اعصابی مرکز تھے۔ انہوں ان اڈوں کو استمعال کرتے ہوئے طیاروں کی مرمت اور ایندھن بھرنے اور ویتنام، کمبوڈیا اور لاؤس پر کارپٹ بمباری کی اور لاکھوں لوگوں پر موت کی بارش برسائی۔
جنگی کھیل شروع ہوتے ہی، فلپائنی سیکرٹری خارجہ امور اور سیکرٹری دفاع نے اپنے ہم منصبوں سے ٹو پلس ٹو وزارتی ڈائیلاگ کرنے کے لیے واشنگٹن کا دورہ کیا جو کہ گزشتہ سات سالوں میں پہلا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے فلپائن کے خارجہ امور کے سیکرٹری اینریک منالو اور وزیر دفاع کارلیٹو گالویز جونیئر سے ملاقات کی۔
انہوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں اصرار کیا گیا کہ چین سمندر کے قانون سے متعلق بین الاقوامی ٹریبونل کے 2016 کے فیصلے کی 'مکمل تعمیل' کرے جسے چار سیکرٹریوں نے 'حتمی اور قانونی طور پر پابند' قرار دیا ہے۔ واشنگٹن کی منافقت حیران کن درجے کی ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون پر دستخط کرنے والا بھی نہیں ہے اس کے باوجود اس کا اصرار ہے کہ چین کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔ ٹو پلس ٹو اجلاس نے اعلان کیا کہ امریکہ اور فلپائن متنازعہ جنوبی بحیرہ چین میں اس حکم کو نافذ کرنے کے ارادے سے مشترکہ گشت کریں گے جو ممکنہ طور پر بالیکاتن کے مشقوں کے دوران شروع ہوگا۔
واشنگٹن کے اکسانے پر منیلا فلپائن میں جاپانی فوجیوں کی تعیناتی کے حوالے سے ٹوکیو کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور بالیکاتن میں جاپانی افواج بطور مبصر موجود ہیں۔ فرڈینینڈ مارکوس جونیئر انتظامیہ جاپانیوں کے ساتھ ممکنہ بنیاد کے انتظام پر بات چیت کر رہی ہے۔ جاپانی لڑاکا طیاروں نے 7 دسمبر 2022 کو دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار فلپائن کا دورہ کیا تھا جو کہ ایک حیرت انگیز اشتعال انگیزی تھی جو حملے کی برسی کے موقع پر ملک واپس آئی۔
عالمی جنگ کے لیے پیش قدمی کی تیاریاں جس میں یوکرین کے شعلے پورے ایشیا پیسیفک خطے میں بھڑک رہے ہیں عالمی سرمایہ داری کے بحران کا اظہار کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں اپنے طبقاتی بھائیوں اور بہنوں کی طرح فلپائن میں مزدوروں کو شدید غربت کا سامنا ہے۔ 10 فیصد سے زیادہ آبادی اپنے اہل خانہ کی کفالت کے لیے بیویوں اور بچوں کو چھوڑ کر بیرون ملک کام تلاش کرنے پر مجبور ہے۔ حکومت چین کے ساتھ جنگ کی تیاری میں ملک کے سماجی وسائل کو ضائع کر رہی ہے جب کہ وسیع دولت بدعنوان اور طاقتور خاندانی خاندانوں کی ایک تنگ پرت کے پاس جمع ہو جاتی ہے۔
پوری دنیا میں محنت کش طبقہ تیزی سے اپنے استحصال اور اسے نافذ کرنے والی ریاست کے اداروں کے خلاف کھلی جدوجہد میں پیش قدمی کر رہا ہے۔ سرمایہ داری کے پاس انہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ بڑھتے ہوئے میلیٹنٹ محنت کش طبقے کا مقابلہ کرتے ہوئے غیر مستحکم عالمی مالیاتی نظام کے بحران کے دوران امریکی سامراج دنیا کی جبری تقسیم کے ذریعے اپنے منافع کو محفوظ کرنا چاہتا ہے۔
واشنگٹن جنگ پر کھڑا ہے جیسا کہ وہ یوکرین اور تائیوان میں کر رہا ہے اور وہ خود کو فلپائنی عوام کی خودمختاری کے دفاع کے طور پر پیش کرتا ہے۔
چین نے کبھی فلپائن کی ایک مربع فٹ سرزمین نہیں چھنی اور نہ یہ کبھی کوئی سامراجی طاقت رہی ہے۔
اس کے برعکس امریکہ نے فلپائن کو ایک خونریز نوآبادیاتی جنگ میں فتح کیا جس میں لاکھوں لوگ مارے گئے اور فلپائنی عوام کی جمہوری امنگوں کو پاؤں تلے کچل دیا۔ جاپان اب امریکہ کی مدد سے دوبارہ فوج سازی کر رہا ہے جس نے فلپائنی عوام کو تین سال تک دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔
یہ سامراجی طاقتیں اور بلخصوص واشنگٹن ہے جو دنیا کو جنگ کی طرف گھسیٹ رہا ہے۔ انہیں روکنا چاہیے۔
انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل، انٹرنیشنل ورکرز الائنس آف رینک اینڈ فائل کمیٹیز، انٹرنیشنل یوتھ اینڈ اسٹوڈنٹس فار سوشل ایکویلٹی اور ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ 30 اپریل کو یوم مئی کی ایک آن لائن ریلی کا انعقاد کریں گی، جس میں مزدوروں کو اکٹھا کیا جائے گا۔ سرمایہ داری اور سامراجی جنگ کے خلاف مشترکہ جنگ کے لیے دنیا بھر سے نوجوان اس لڑائی میں شامل ہوں۔ آج ہی اپنے کو رجسٹر کریں۔
