اُردُو
Perspective

یوکرین میں امریکی سامراج کی مسلسل بڑھوتری

یہ 20 مئی 2023 کو انگریزی میں شائع ہونے 'US imperialism’s relentless escalation in Ukraine' اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔

8 مئی 2022 کو یوکوٹا ایئر بیس جاپان میں فضائیہ کا ایک ایف - 16 فائٹنگ فالکن ایک چست جنگی تربیتی مشق میں حصہ لے رہا ہے۔ [Photo: US Department of Defense/Yasuo Osakabe, Air Force]

جمعے کے روز باخموت میں یوکرینی فوج کی شکست کے پس منظر میں امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا کہ امریکا نے نیٹو اتحاد کے ارکان کو یوکرین کو ایف -16 لڑاکا طیارے بھیجنے کا اختیار دے دیا ہے۔

ہیروشیما میں امریکہ کے جنگی جرائم کے متاثرین کا ایک ظالمانہ مذاق اڑاتے ہوئے دنیا کی سامراجی طاقتوں کے رہنماؤں نے ہنسی اور مسکراہٹ کا اظہار کیا جب انہوں نے ایک ایسی جنگ کو لاپرواہی سے بڑھانے کا اعلان کیا جو کہ پچھلے سال ہی بائیڈن نے کہا تھا کہ دنیا کو جوہری ' فنا' سے خطرہ ہے۔

ایف -16 اور دیگر لڑاکا طیاروں کی تعیناتی روس کے لیے ناقابل قبول اور ناقابل برداشت صورتحال پیدا کرے گی۔ ایف -6 طیاروں کی رینج 500 میل سے زیادہ ہے اور یہ 1,200 سے زیادہ کی رینج والے میزائلوں کو تعینات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ کو یوکرائنی فوج کے نشانے پر رکھا جا سکتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایف -6 طیارہ ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار لے جا سکتا ہے۔ یہ ایک ناقابل یقین حد تک خطرناک صورتحال قائم کرتا ہے۔ ایف -6 طیاروں کے مشرق کی طرف پرواز کرنے سے روسی حکومت کو یہ معلوم نہیں ہو گا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں یا کیا لے کر جا رہے ہیں۔ روس اس کے ردعمل مزید آگے بڑھنے کے اقدامات پر مجبور ہو جائے گا اور پھر نیٹو طاقتوں کی جانب سے اس سے بھی زیادہ جارحانہ ردعمل کا مرحلے کا سامنا کرنا پڑھے گا۔

بائیڈن انتظامیہ نے جنگ کے پرامن حل کی کسی بھی جنگ بندی یا کوشش کو مسترد کر دیا ہے جس میں چین کی طرف سے تجویز کردہ حل بھی شامل ہے۔ بلکہ وائٹ ہاؤس مہینوں اور سالوں سے پہلے سے بنائے گئے منصوبوں کے مطابق روس کی فوجی شکست کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے پرعزم ہے۔

سرکاری بیانیہ کے مطابق ایف -6 بھیجنے کا فیصلہ صرف اس ہفتے کیا گیا تھا ایک 'ہچکچاہٹ کا شکار' بائیڈن نے بالآخر کارروائی کرنے کے لیے 'قائل' کر لیا۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا، مثال کے طور پر، 'ایک سال سے زیادہ عرصے سے، روس کے خلاف استعمال کے لیے یوکرین کے اوپر کے آسمانوں میں ایف -6 کا حصول کیف کے لئے اس مقدس پیالے کی ماند ہے جسکی وہ عرصہ دراز سے کوشیش کر رہا تھا جس کے لئے اچانک صدر بائیڈن نے ہاں کر دی۔

'امریکی یورپی اور یوکرائنی حکام کے مطابق یہ تبدیلی اتحادیوں کانگریس اور یوکرائنی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مسلسل دباؤ کا نتیجہ ہے جنہوں نے ابھی یورپی دارالحکومتوں کے دورے مکمل کیے ہیں۔'

یہ صاف جھوٹ ہے جس کا مقصد واشنگٹن میں فیصلہ سازی کے اصل عمل کو دھندلا دینا ہے۔ جب کہ بائیڈن انتظامیہ جنگ کو بڑھانے کے لیے ایک منظم منصوبے کے ساتھ کام کر رہی ہے اس کے تمام اقدامات بیرونی 'دباؤ' کے لیے نیم بے ساختہ رد عمل کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔

درحقیقت امریکہ تقریباً ایک سال سے یوکرین کو ایف -16جیٹ طیارے بھیجنے کی بھرپور تیاری کر رہا ہے۔ جولائی 2022 میں ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ نے رپورٹ کیا کہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے تصدیق کی کہ پینٹاگون 'یوکرینیوں کو لڑاکا طیارے فراہم کرنے' پر تبادلہ خیال کر رہا ہے اور فضائیہ کے جنرل چارلس کیو براؤن جونیئر نے زور دے کر کہا کہ یوکرین میں امریکی نیٹو جنگجو بھیجنے کی 'بات چیت جاری ہے'۔

تین ماہ قبل بائیڈن کے اس اعلان کے بعد کہ امریکہ روس کے خلاف ابرامز جنگی ٹینک بھیجے گا ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے لکھا کہ 'بائیڈن کے اس واضح اعلان کے باوجود کہ امریکہ ایف -16 لڑاکا طیارے یوکرین نہیں بھیجے گا لیکن اسے بھیجنے کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے۔ نیٹو کے اندر سیاسی تفصیلات سے کام لینے اور جھوٹ کی میڈیا پراپیگنڈہ مہم شروع کرنے کے سوا کچھ نہیں بچا تاکہ اس فیصلے کو شکی مزاج عوام میں فروخت کیا جا سکے۔

اور یہ بالکل وہی عمل ہے جو پچھلے ہفتے کے دوران اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔

میڈیا میں ہونے والے چرچے کا مقصد اس بنیادی حقیقت کو دھندلا دینا ہے کہ جنگ نہ بڑھانے کے اپنے ہر وعدے میں صدر جان بوجھ کر عوام سے جھوٹ بول رہے تھے۔

جنوری 2023 میں بائیڈن سے پوچھا گیا، 'کیا امریکہ یوکرین کو ایف - 16 فراہم کرے گا؟' جس کے جواب میں انہوں نے کہا ’’نہیں‘‘۔

مارچ 2022 میں بائیڈن نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ'یہ خیال کہ ہم جارحانہ سازوسامان بھیجیں گے اور امریکی پائلٹوں اور امریکی عملے کے ساتھ ہوائی جہاز اور ٹینک اور تربیت افتہ افراد بھیجنے گے بس سمجھیں — اور اپنے آپ کو بچہ نہ بنائیں، چاہے آپ کچھ بھی ہوں۔ سب کہتے ہیں کہ اسے تیسری عالمی جنگ کہا جاتا ہے۔

ایک سال بعد کم از کم 100 امریکی فعال ڈیوٹی فوجی یوکرین میں ہیں درجنوں امریکی ٹینکوں اور سینکڑوں بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ اور امریکی لڑاکا طیارے بھی راستے میں ہیں۔

نیٹو اتحاد میں شامل ہر حکومت جانتی ہے کہ یوکرین کو جوہری صلاحیت کے حامل جیٹ طیارے فراہم کر کے — ایسے ہتھیار جو روس کے بڑے شہروں کو حملوں کے نشانے کے دائرے میں رکھتے ہیں — وہ روس کے ساتھ جوہری جنگ میں اپنے ہی لاکھوں شہریوں کی ہلاکت کا خطرہ بھی رکھتے ہیں۔

جیٹ طیاروں کو بھیجنے کا فیصلہ مہینوں پہلے کر لیا جاتا جس کے لیے نیٹو اتحاد کے سب سے طاقتور ارکان کی منظوری درکار ہوتی۔ مارچ میں جرمن چانسلر اولاف شولز نے مختصر نوٹس پر واشنگٹن کے لیے اڑان بھری اور بائیڈن سے اکیلے ملاقات کی اس سے پہلے کہ وہ براہ راست جرمنی واپس جائیں نہ ہی امریکی یا جرمن عوام کو یہ بتایا گیا کہ انھوں نے کیا بات چیت کی۔

ایسے ہی اجلاسوں میں فیصلے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد مناسب طور پر اسکو لپیٹے کے ساتھ ایک خاص وقت پر عوام کے سامنے ان کا اعلان کیا جاتا ہے۔

لیکن یہ ایک عجیب سوال پیدا کرتا ہے۔ اگر یوکرین کو ایف- 16 بھیجنے کا فیصلہ مہینوں پہلے لیا گیا تھا تو یہ ایک ایسے وقت میں لیا گیا تھا جب یوکرین میں امریکی نیٹو کی پراکسی افواج اب کی نسبت کہیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی تھیں۔

لیکن ہفتے کے روز روسی افواج نے اطلاع دی کہ انہوں نے پورے اسٹریٹجک شہر باخموت پر قبضہ کر لیا، ایسے حالات میں جب یوکرائنی جوابی حملہ ناکام ہو گیا۔

امریکہ اس تازہ شکست پر کیا جواب دے گا؟ واشنگٹن مزید کتنا بڑھ سکتا ہے؟ کیا کوئی شک کر سکتا ہے کہ یوکرین کو جدید ترین لڑاکا طیارے بھیجنے کے بعد بائیڈن کے لیے پریس میں سوالات سامنے آئیں گے کہ وہ یوکرین کو 'دفاعی' جوہری ہتھیار بھیجیں یا نیٹو کے دستوں کو چاہے وہ آسمان میں ہوں یا زمین پر براہِ راستُ جنگ میں ملوث ہونے کے لیے۔ 

درحقیقت یہ ایسی بات چیت ہے جو جی 7 اجلاس میں بند دروازوں کے پیچھے ہوئی تھی۔ ہفتے کے آخر میں ہونے والی سربراہی ملاقات کے دو مقاصد تھے: پہلا، سامراجی سازشیوں کی چال میں کسی بھی مخالف کو لائن میں لانا اور دوسرا اس سوال پر بحث کرنا: آگے کیا؟

جیسا کہ ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے جنگ کی پہلی برسی کے موقع پر خبردار کیا تھا 'بائیڈن انتظامیہ نے ایسی صورت حال پیدا کر دی ہے جہاں سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنے سے اس کے وقار اور ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اور جو نیٹو کے ٹوٹنے کا باعث بنے گا۔ اس جنگ میں فتح امریکی سامراج کے لیے ایک وجودی سوال بن چکی ہے۔

امریکہ اور نیٹو طاقتیں اس جنگ میں اس کی فتح کو یقینی بنانے کے لیے کوئی طوالت نہیں چھوڑیں گی۔ کوویڈ -19وبائی مرض کے بارے میں اس حکومت کے ردعمل سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ وہ امریکی شہریوں کی زندگیوں کو کچھ بھی نہیں سمجھتی ہے اور نہ ہی دسیوں یا لاکھوں یوکرینیوں کی جو اس کی جنگ میں مارے گئے ہیں۔ امریکی سامراج ایک نئی خونریزی کی تیاری کر رہا ہے جو عراق اور افغانستان کے مقابلے میں بہت زیادہ خون ریز اور تباہ کن ہوگی۔

محنت کش طبقے کو جنگ کی شدت کا جواب طبقاتی جدوجہد کے بڑھنے کے ذریعے دینا چاہیے۔ دنیا بھر میں مزدوروں حکومتوں کے خلاف جدوجہد میں داخل ہو رہے ہیں جو یہ اعلان کر رہی ہیں کہ دوبارہ ہتھیاروں کی ادائیگی کے لیے مزدوروں کے معیار زندگی کو کم کیا جانا چاہیے۔ ان جدوجہدوں کو بین الاقوامی سوشلزم کے نقطہ نظر کی بنیاد پر متحد ہونا چاہیے اور یوکرین میں جنگ کے خاتمے کی جدوجہد کو مرکزی مطالبہ کے طور پر اٹھانا چاہیے۔

Loading