اُردُو
Perspective

ماسکو پر ڈرون حملے کا مقصد روس کے ساتھ امریکہ اور نیٹو کی جنگ کو بڑھانا ہے۔

یہ 31 مئی 2023 کو انگریزی میں شائع ہونے 'Drone attack on Moscow aims to escalate US-NATO war with Russia' والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔

ویڈیو سے لی گئی اس تصویر میں 30 مئی 2023 کو منگل کو ماسکو روس میں یوکرین کے ڈرون سے اپارٹمنٹ کی عمارت کو نقصان پہنچانے کے بعد تفتیش کار عمارت کا معائنہ کر رہے ہیں۔ [اے پی فوٹو] [AP Photo]

منگل کو یوکرین نے ماسکو پر اپنا دوسرا ڈرون حملہ کیا اور پہلا حملے میں عام شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں آٹھ فکسڈ ونگ ڈرون لانچ کیے گئے تھے جن میں سے کم از کم ایک اپارٹمنٹ کی عمارت سے ٹکرا گیا۔

روس کے دارالحکومت پر منگل کا حملہ اس بات کا اشارہ ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے جی 7 اجلاس کے بعد جس میں امریکہ نے ایف-16 لڑاکا طیارے بھیجنے کا اعلان کیا تھا- سامراجی طاقتوں نے جنگ کو مزید براہ راست روسی سرزمین میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان حملوں کا مقصد روس کو جوابی ردعمل پر اکسانا ہے جیسے پھر استمعال کرتے ہوئے نیٹو کی جانب سے مزید کشیدگی کو جواز فراہم کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے جس میں نیٹو کے فوجیوں کے براہ راست تنازع میں داخل ہونا بھی شامل ہے۔

امریکہ کے یہ دعوے کہ وہ روس کے اندر حملوں کی 'حوصلہ افزائی' یا 'اجازات' نہیں دیتا ہے ایک کھلا جھوٹ ہے جس کا مقصد روسی حکومت کو نہیں بلکہ امریکی عوام کو دھوکہ دینا ہے۔ روس کے دارالحکومت پر یوکرین کے حملوں پر امریکہ کے ساتھ بات چیت اور اس کی اجازت لازمی طور پر دی گئی ہوگی۔

ٹائمز آف لندن نے دسمبر میں رپورٹ کیا کہ یوکرین کو روس کے اندر حملے کرنے کے لیے ذاتی طور پر امریکہ کی اجازت مل گئی ہے۔ 'پینٹاگون نے روس کے اندر اہداف پر یوکرین کے طویل فاصلے تک حملوں کی توثیق کی ہے،' اس نے لکھا کہ۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سیاسی شخصیات کے بیانات نے واضح طور پر حملوں کی تائید کی۔

سابق کانگریس مین ایڈم کنزنگر جو ٹرمپ مخالف ریپبلکن ہے نے لکھا: 'ارے #روس۔ آپ نے فروری 2022 میں ماسکو پر ڈرون حملے کے بارے میں مشتعل ہونے کا اپنا حق کھو دیا۔ تلوار سے جیو…”

برطانیہ کے وزیر خارجہ جیمز کلیورلی نے کہا کہ یوکرین کو 'اپنی سرحدوں سے باہر طاقت پیش کرنے کا حق ہے' اور یہ کہ اس طرح کے حملوں کو 'قوم کے اپنے دفاع کے حصے کے طور پر بین الاقوامی طور پر جائز تسلیم کیا جاتا ہے۔'

پچھلے ہفتے، ایک انتہائی دائیں بازو کے رپورٹر نے ڈیموکریٹک نمائندے جیرولڈ نڈلر سے پوچھا کہ کیا وہ روس کے اندر حملوں کی مخالفت کرتے ہیں جس کے جواب میں انہوں نے کہا 'نہیں… یہ منصفانہ کھیل ہے۔ لیکن روس کو یہ کیوں محسوس ہونا چاہیے کہ وہ کسی اور پر حملہ کر سکتا ہے؟ اور اپنے گھر میں مکمل حفاظت میں ہے؟

ڈرون حملوں کے فوری اثرات سے ہٹ کر منگل کا حملہ مزید مسلسل فضائی حملے کی تیاری بھی ہو سکتا ہے۔

نیو یارک ٹائمز نے فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں سے منسلک ایک تحقیقی مرکز سی این اے میں روسی مطالعات کے مشیر سام بینڈیٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، 'روس میں خطرے کا احساس پیدا کرنے کے علاوہ [بینڈیٹ] نے کہا، یوکرین کے ڈرون حملے ہو سکتے ہیں کہ وہ ماسکو کے فضائی دفاعی نظام کو جانچنے اور ممکنہ کمزوریوں کی نشاندہی کرنے کے لیے خدمات انجام دیں جن سے دوسرے حملوں میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

جی 7 سربراہی اجلاس کے بعد ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے نوٹ کیا کہ ایف -16 لڑاکا طیاروں کی تعیناتی کا واشنگٹن کا فیصلہ اس وقت نہیں کیا گیا تھا بلکہ وہ بہت پہلے کر چکے تھے جیسا کہ امریکی حکام کے پچھلے بیانات سے واضح ہو گیا تھا۔

ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے لکھا 'اگر یوکرین کو ایف -16بھیجنے کا فیصلہ مہینوں پہلے لیا گیا تھا تو یہ ایسے وقت میں لیا گیا تھا جب یوکرین میں امریکی نیٹو کی پراکسی افواج اب کی نسبت کہیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی تھیں۔'بخموت کے سقوط کے ساتھ ہم نے مزید کہا، ' یوکرائنی جوابی حملہ ناکام ہو گیا ہے جسکی بڑی تعریف کی جا رہی تھی'

اس سے یہ سوال پیدا ہوا 'امریکہ اس تازہ ترین شکست کا کیا جواب دے گا؟ واشنگٹن کتنا آگے بڑھ سکتا ہے؟

ڈرون حملے اس کا اشارہ دیتے ہیں۔ یہ 10 دن پہلے جی 7 اجلاس کے بعد سے یوکرین میں امریکی نیٹو طاقتوں اور اس کی پراکسی فورس کے اقدامات کے سلسلے کا ایک حصہ ہیں۔

گزشتہ بدھ کو یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ جو اب تک کا سب سے بڑا جنگی جہاز ہے روس کے قریب آرکٹک کے پانیوں میں 'نیوی گیشن کی آزادی' کی کارروائیوں کو انجام دینے سے پہلے اوسلو، ناروے پہنچا۔ کل امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سویڈن پہنچے تاکہ نیٹو میں اس کے الحاق کو آگے بڑھایا جائے کیونکہ روس کی مغربی سرحدیں محاذ جنگ بن گئی ہیں۔

یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے اپنی یوکرائنی پراکسی فورس کے لیے 'روس کے زیر قبضہ یوکرین کو آزاد کرانے کے لیے جارحانہ کارروائی' کے لیے واضح اہداف بیان کیے گئے ہیں، جیسا کہ جنوری میں امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین مارک ملی نے بیان کیا تھا کہ ان اہداف کو جنگ میں امریکہ اور نیٹو کی شمولیت میں بڑے پیمانے پر توسیع کے زریعے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

نیٹو کی جنگ میں براہ راست داخلے کی تیاریوں پر کھلے عام بحث ہو رہی ہے۔ منگل کے روز چیک مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل کارل ریکھ نے کہا کہ نیٹو کو روس کے ساتھ براہِ راست جنگ کے لیے 'تیار' ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس اور شمالی بحر اوقیانوس کے اتحاد کے درمیان جنگ ممکن ہے۔ روس اس وقت اس اتحاد کے ساتھ تنازعہ کی طرف گامزن ہے۔... یہ ہو سکتا ہے اور طویل مدت میں اس کے لیے تیاری کرنا ضروری ہے۔

امریکی میڈیا اس تصور کی وکالت کر رہا ہے کہ جوہری جنگ کا خطرہ روس کی 'شکست' کی تلاش میں ایک اطمینان بخش خطرہ ہے عوامی طور پر یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ نیٹو کی مسلسل اشتعال انگیزیوں کے جواب میں پیوٹن کی جوابی کارروائی میں ناکامی امریکہ کو مزید جنگ میں بڑھنے کی آزادی دیتی ہے۔

ٹائمز اخبار میں ایک مہمان کی رائے کے عنوان میں 'ہم جوہری طاقتوں نے جنگیں ہاری ہیں' کے عنوان سے جنگ کے حامی تاریخ دان ٹموتھی سنائیڈر نے اعلان کیا کہ 'جب روسی جوہری جنگ کے بارے میں بات کرتے ہیں تو سب سے محفوظ ردعمل ان کی روایتی شکست کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔'

ان لوگوں کو جو خبردار کرتے ہیں کہ اس عمل سے انسانی تہذیب کی تباہی کا خطرہ ہے، سنائیڈر نے عجیب و غریب جواب دیا 'خطرات کے بغیر کوئی آپشن نہیں ہے۔'

پیوٹن جو روسی اشرافیہ کے ایک دھڑے کی نمائندگی کرتا ہے اپنے مغربی 'شراکت داروں' کے ساتھ مستقل طور پر کسی نہ کسی طرح کے سمجھوتے کی تلاش میں رہتے ہیں جن کو سمجھوتے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جبکہ روسی حکومت پر مزید جنگ بڑھنے کا دباؤ ہے لیکن وہ محنت کش طبقے کے اندر سماجی مخالفت کے بڑھنے کے نتائج سے بھی خوفزدہ ہے۔

سڈنی آسٹریلیا میں نئی ​​کتاب لیون ٹراٹسکی اور اکیسویں صدی میں سوشلزم کے لیے جدوجہد پر بات کرتے ہوئے ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس ایڈیٹوریل بورڈ کے چیئرمین ڈیوڈ نارتھ نے روس کے خلاف امریکہ نیٹو کی جنگ کے دور رس نتائج کی وضاحت کی۔

انہوں نے کہا کہ یوکرائن کی جنگ ختم نہیں ہو رہی۔ 'یہ اور بڑے تصادم میں پھیل کر آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ اس کی ابتدائی واقعہ کی شکل ہے جو جلد ہی ایک عالمی جنگ کے طور پر واضح ہو جائے گی اور اس کے انتہائی خطرناک مضمرات ہونگے۔

'کوئی ان کی پالیسیوں کو دیکھ سکتا ہے اور پوچھ سکتا ہے کیا وہ نہیں سمجھتے کہ اس کے نتیجے میں جوہری جنگ ہو سکتی ہے؟ یہ دیوانگی ہے. اور یہ سچ ہے یہ پاگل ہیں۔' لیکن اس پاگل پن کی 'مادی طور پر وضاحت' ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سامراجی طاقتوں کے اقدامات 'ان تضادات کا جواب ہیں جنہوں نے عقلی ردعمل کو بند کر دیا ہے۔'

نارتھ نے مزید کہا کہ ' اس پروسس میں دو محرکات عمل میں ہیں۔ ایک عمل جو سرمایہ داری کے تضادات کے ذریعے تباہ کن جنگ اور تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ لیکن یہی تضادات سماجی انقلاب بھی برپا کرتے ہیں۔

یہاں تک کہ جب امریکہ اور نیٹو روس کے خلاف جنگ کو بڑھا رہے ہیں محنت کش طبقہ پوری دنیا میں جدوجہد میں داخل ہو رہا ہے۔ یہی سماجی قوت ہے جسے جنگ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کے لیے منظم اور سیاسی آگاہی دیتے ہوئے سیاسی طور پر متحرک ہونا چاہیے۔

Loading