اُردُو

یوکرائنی نوجوان جنگ کی سماجی تباہی پر بول رہے ہیں: "فوج ہر جگہ بچ جانے والوں کو لازمی بھرتی کے لیے پکڑ رہی ہے"

یہ 15 جون 2023 کو انگریزی میں شائع  “Ukrainian youth speak on war, social catastrophe: 'The military is grabbing draft evaders everywhere'” ہونے والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔

روس کے خلاف نیٹو کی حمایت یافتہ جوابی کارروائی کے ساتھ جنگی جنون اور پروپیگنڈے کے دوران مغربی بورژوا میڈیا میں عملی طور پر ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو بے پناہ سماجی بحران اور یوکرین کے محنت کشوں اور نوجوانوں کے خدشات جنگ کے ہولناک نقصانات اور تھکاوٹ کے بڑھتے ہوئے احساس کو درست انداز میں یوکرائن کی آبادی میں پائے جانے والی حقیقی صورت حال کو پیش کرتا ہو۔ 

صرف ایک سال سے زیادہ کی جنگ میں یوکرین کی فوج کو ایک اندازے کے مطابق 200,000 یا اس سے زیادہ ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 4 زخمیوں کی اور 1 مرنے والوں اوسط شرح پر غور کرتے ہوئے یہ اس بات کی نشاندہی کرے گا کہ مزید 800,000 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جنگ سے پہلے کی صرف 39 ملین سے کم آبادی میں سے 0.5 فیصد جنگ میں ہلاک اور 2.6 فیصد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ اگر یہ تناسب 332 ملین کی آبادی والے امریکہ پر لاگو کیا جائے تو اس کے برابر 1,660,000 ملین ہلاک اور 8,632,000 افراد ہلاک یا زخمی ہوں گے۔ مزید 8.5 ملین لوگ ملک چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں اور صرف 29 ملین کو چھوڑ کر جن میں سے سبھی زیلنسکی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں نہیں رہتے۔

چھوٹے شہروں میں بھی سینکڑوں مرد اور نوجوان لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ جہاں حکومت نے اب قبرستانوں میں تصاویر لینے پر پابندی عائد کر دی ہے وہیں ملک بھر میں اجتماعی قبروں کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہتی ہیں۔

مرنے والوں کی اکثریت نوجوانوں اور مزدوروں کی ہے۔ اگرچہ زیادہ سے زیادہ لوگ بھرتی سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں ایسا کرنے کے لیے سب سے بڑھ کر مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے جو آبادی کی اکثریت کے پاس نہیں ہے۔ جنگ سے پہلے بھی مالڈووا کے ساتھ یوکرین یورپ کا غریب ترین ملک تھا۔

ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ نے حال ہی میں یوکرین کے متعدد نوجوانوں سے ملک کی صورتحال اور آبادی کے اندر کے مزاج اور احساسات کے بارے میں بات کی۔

ان میں سے ایک نے ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کو اطلاع دی 'جو پہلے بے روزگار تھے وہ بے روزگار رہتے ہیں۔ لوگ نوکری حاصل کرنے سے بھی ڈرتے ہیں کیونکہ پھر یہ خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے کہ آپ کو فوج میں لے جایا جائے گا کیونکہ مینیجر فوج کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔

'فوج ہر جگہ لازمی بھرتی کے لیے بچ گئے نوجوانوں کو پکڑ رہی ہے۔ وہ سڑکوں پر انتظار کرتے ہیں، شاپنگ مالز کے قریب پارکنگ، جیم، گھروں وغیرہ میں جاتے ہیں۔ وہ سمن کا مسودہ پیش کریں گے اور لوگوں کو جن میں سے کچھ 16 سال کی عمر کے ہیں کو جنگ کے لیے لے جائیں گے۔'

جنگ کے آغاز میں یوکرین میں نافذ مارشل لاء کے تحت 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے مردوں کے ملک چھوڑنے پر پابندی ہے۔

اس نے مزید وضاحت کی،

وہاں بہت سے لوگ ہیں جو فوج میں خدمت نہیں کرنا چاہتے ہیں ان کی تعداد زیادہ ہے اُن سے جو خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ درجنوں لوگ ڈینیٹرز دریا [مالڈووا میں داخل ہونے کے لیے] تیر کر بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ ڈوب جاتے ہیں۔ فوج میں بھی بڑے پیمانے پر کرپشن ہے۔ جو لوگ خدمت نہیں کرنا چاہتے وہ بھاری رقم ادا کر کے خود کو بچ سکتے ہیں۔

اس نے جاری رکھا،

لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو یوکرین کی فوج میں رضاکار کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ معاشرے میں گہری تقسیم برقرار ہے۔ شہروں میں اب بھی مخبر موجود ہیں جو روسی فوج کو معلومات دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ خفیہ طور پر روسی فوج کی آمد کی امید رکھتے ہیں۔ حال ہی میں روسی فوج میں یوکرینیوں کی ایک رضاکار کور کی تشکیل کا اعلان کیا گیا تھا۔ اسے زار روس میں یوکرین [لٹل روس] کے شاہی نام کے بعد 'لٹل روسی لبریشن آرمی' کہا جاتا تھا۔ یہ کتنا غلامانہ لگتا ہے!

میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ مجھ سے بہت دور فرنٹ لائن پر کیا ہو رہا ہے۔ میرے ذہن میں یہ خیالات خاص طور پر اکثر آتے رہے ہیں جب سے میں نے نیٹ فلکس پر 'آل کوئٹ آن دی ویسٹرن فرنٹ' دیکھا ہے جو ایرچ ماریا ریمارک کے ایک ناول پر مبنی ہے۔ ذاتی طور پر میں دونوں فریقوں کے لیے ہمدردی محسوس کرتا ہوں۔

اس جنگ کے بارے میں بہت سے چرچے ہیں بہت سے اس بارے میں بات کر رہے ہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے اور روس کا اس تنازعہ میں کیا کردار ہے۔ اگر میں اس جنگ کا موازنہ اس جنگ سے کروں جو دوسری عالمی جنگ کے دوران سوویت یوکرین کی سرزمین پر لڑی گئی تھی تو میں اس نتیجے پر پہنچتا ہوں کہ یہ جنگ درحقیقت 'وطن کے دفاع کی جنگ' تھی کیونکہ میرے آباؤ اجداد وطن کے دفاع کے لیے لڑے تھے۔ مزدوروں کا [سوویت یونین] لیکن آج یہ موجود نہیں ہے۔

دو دیگر نوجوانوں نے بھی جنگ کے ساتھ تھکاوٹ کے بڑھتے ہوئے احساس کے بارے میں بات کی۔ ایک نوجوان نے کہا 'جنگ کی طرف رویہ بدل رہا ہے۔ محب وطن اور قوم پرست پہلے ہی محاذ پر دم توڑ چکے ہیں۔ جو باقی رہ گئے ہیں وہ اعتدال پسند اور جنگ سے تھکے ہوئے ہیں۔

ایک 22 سالہ نوجوان نے کہا ’’معاشرے میں ایک خاص تھکاوٹ ہے جسے آپ جنگ کے حوالے سے دیکھ سکتے ہیں لیکن اس سمت میں سوچنا بھی منع ہے۔‘‘

جنگ کے خوفناک انسانی جانوں کے علاوہ یوکرائنی مزدور اور نوجوان ان حالات میں بھی انتہائی بلند قیمتوں سے دوچار ہیں جہاں زیلنسکی حکومت اجرتوں میں کٹوتی اور سماجی اسٹریٹی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ 12 جون تک ورلڈ فوڈ پروگرام کی طرف سے ورلڈ میپ نے رپورٹ کیا کہ 8.7 ملین سے زیادہ لوگ یعنی تقریباً تین میں سے ایک یوکرینی جو اب بھی ملک میں رہ رہے ہیں کے پاس خوراک کی ناکافی کھپت ہے، اور 7 ملین لوگ ' بحران کا شکار ہیں یا پھر اس بحران میں اپنی خوراک کو انتہائی محدود طریقے سے استمعال کرتے ہوئے گزارہ کر رہے ہیں۔ 

22 سالہ نوجوان نے کہا،

سماجی صورتحال تباہ کن ہے قیمتیں بڑھ رہی ہیں، ٹیکس بڑھ رہے ہیں، لیکن تنخواہیں نہیں بدلتی ہیں۔ بہت سے لوگ جو کھاتے ہیں اس میں کمی کرنے پر مجبور ہیں۔ پنشن کی عمر کے بوڑھے مرتہن کی دکانوں میں اپنا قیمتی سامان بیچنے پر مجبور ہیں جو پورے شہر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

کام کرنے کے خوفناک حالات میں نوجوانوں کے لیے ایسی نوکری تلاش کرنا عملی طور پر ناممکن ہے جہاں وہ اپنے آجرت کے انسان مخالف رویے کا شکار نہ ہوں۔

ایک اور نوجوان نے کہا۔

اگر ہم سماجی مزاج کے بارے میں بات کر رہے ہیں تو وہ زیلنسکی حکومت کی تنقید اور اس کی حمایت کے درمیان ڈگمگاتے ہیں۔ بہت سے لوگ مکانات اور سہولیات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے غیر مطمئن ہیں۔ لوگ قیمتوں میں اضافے کا منفی اور فعال ردعمل دیتے ہیں لیکن یہ احتجاج دوستوں اور پڑوسیوں کے درمیان بحث سے آگے نہیں بڑھتا۔ اس وقت کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ زیلینسکی حکومت کے خلاف عوام میں عدم اطمینان بڑھ رہا ہے۔ روسیوں کی طرف اب بھی شاونزم ہے۔ بہت سے لوگ توقع کرتے ہیں کہ جنگ جلد ہی یوکرین کی فتح کے ساتھ ختم ہو سکتی ہے۔

نوجوانوں نے اطلاع دی کہ زیلنسکی حکومت کی طرف سے فاشسٹ قوتوں کے فروغ کے لیے بڑے پیمانے پر تنقیدی رویہ پایا جاتا ہے جو دوسری عالمی جنگ کے دور کے نازی ساتھیوں سٹیپن بنڈیرا اور ان کی تنظیم برائے یوکرائنی قوم پرستوں کی روایت پر قائم ہیں۔ تاہم ان مباحثوں کو اکتوبر انقلاب کی تاریخ، سٹالنزم اور خود فاشسٹوں کے کردار کے بارے میں تاریخی وضاحت کی کمی کے ساتھ ساتھ عوامی احتجاج کی صورت میں نتائج کے خوف سے قابل شناخت کیا گیا ہے۔

22 سالہ نوجوان نے ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کو بتایا کہ 'معاشرے میں فاشسٹ شخصیات کی تشہیر کی مذمت کی جاتی ہے لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ یہ مذمت پردے کے پیچھے ہوتی ہے تاکہ مسائل سے بچا جا سکے۔'

اس نے مزید کہا کہ،

کچھ ایسے بھی ہیں جو سماجی فوائد کے حوالے سے سوویت یونین کی کامیابیوں کو پرانی یادوں کے ساتھ یاد کرتے ہیں جو اب امیروں کا استحقاق ہیں۔ یہ رجحان وسیع نہیں ہے کیونکہ برسوں کی کمیونسٹ مخالف ہسٹیریا نے معاشرے میں یہ سمجھ پیدا کر دی ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ نوجوان نسل کی مکمل معلوماتی برین واشنگ ہوئی ہے۔ حکومت اس پر سوشلزم اور کمیونزم اور اکتوبر انقلاب کے جوہر کے بارے میں غلط فہمی مسلط کر رہی ہے۔ سوشلزم اور کمیونزم کی غلط فہمی کا بیج بو کر اقتدار میں موجود امریکی کٹھ پتلیوں نے سرمایہ دارانہ استحصال کے اشرافیہ کے نظام کو مزید مضبوط کیا ہے۔

مجموعی جذبات اس نے اشارہ کیا مستقبل کے لیے اضطراب اور خوف میں سے ایک ہے۔ 'ہر کوئی توقع کرتا ہے کہ مستقبل قریب میں یا تو ان کے گھر کو بم سے نشانہ بنایا جائے گا یا پھر آبادی کی اکثریت کو درپیش معاشرتی حالات مزید بگڑ جائیں گے۔ ذاتی طور پر مجھے صرف ایک مبہم احساس ہے کہ آگے کا راستہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مستقبل میں واقعات کے کئی ممکنہ سمت ہوں گی لیکن ان میں سے کوئی بھی محنت کش عوام کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔

یوکرائن میں فورتھ انٹرنیشنل کی انٹرنیشنل کمیٹی کے ایک نوجوان حامی نے کہا، 'میں سمجھتا ہوں کہ یوکرائن کا مسئلہ خود یوکرین کی سرحدوں کے اندر حل نہیں کیا جا سکتا: یوکرین کا مسئلہ صرف عالمی میدان میں ہی حل ہو سکتا ہے۔ مجھے یوکرائن کے مسئلے کا حل روس یا امریکہ کی فتح میں نظر نہیں آتا بلکہ صرف روس، یوکرین اور پوری دنیا کے محنت کش طبقے کے اتحاد میں نظر آتا ہے۔

Loading