یہ تناظر انگریزی میں 17 جون 2023 میں شائع ہوا 'Are nuclear weapons the next red line NATO will cross in Ukraine?' کا اردو ترجمہ ہے۔
تقریباً دو ہفتوں میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ یوکرین کی 'موسم بہار کی جوابی کارروائی'، جسے امریکی میڈیا نے مہینوں تک فروغ دیا تھا کوئی خاص پیش رفت نہیں کر سکی بلکہ یوکرین کی مسلح افواج کو تباہ کن جسمانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
یوکرائنی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے حملے کے آغاز کے بعد سے 38 مربع میل کا علاقہ دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔ دوبارا حاصل کیے گے علاقے کے اس ٹکڑے کو روزانہ 1,000 ہلاکتوں کی بنیاد پر حاصل گیا ہے جو جنگی حملے کے آغاز کے بعد سے ہلاکتوں کی کل تعداد 12,000 تک پہنچ گئی ہے۔ روسی حکام نے بکتر بند گاڑیوں کو میزائلوں، ڈرونز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے توپ خانے سے تباہ ہونے کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں ایک درجن سے زیادہ جدید لیوپارڈ 2 ٹینک اور بریڈلی انفنٹری فائٹنگ گاڑیاں شامل ہیں۔
تنازع کے پہلے ڈیڑھ سال تک امریکہ اور نیٹو طاقتوں نے اس بنیاد کی سوچ پر کام کیا کہ وہ یوکرین کو مسلسل جدید ہتھیار بھیج کر جنگ کے خلاف دلیل جاری رکھ سکتے ہیں اور دوسری جانب یوکرین کے باشندوں کو میدان جنگ میں توپوں کے چارے کے طور پر استمعال کرتے رہیں گے۔
انسانی جانوں کے تباہ کن نقصان پر سرد بے حسی کے ساتھ بائیڈن انتظامیہ نے آخری یوکرین تک جنگ لڑنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس حکمت عملی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ نیٹو کے لیے اور مزید یوکرینیوں کو موت کے منہ میں بھیجنے کے لیے انکی تعداد ختم ہو رہی ہے۔
اب تک لاکھوں یوکرائنی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں جو لڑائی کی عمر کی آبادی کا ایک بڑا حصہ تھے اس لیے زیلنسکی حکومت کو اگلی صفوں پر نئی لاشیں پھینکنے اور تلاش کرنے کے لیے اب مزید مایوس کن اقدامات کی طرف لے جاتی ہے۔
اس پس منظر میں نیٹو ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعے کو دو روزہ سربراہی اجلاس کا اختتام کیا جس کا مقصد نیٹو اور یوکرین کے درمیان فوجی اتحاد کے منصوبوں کو حتمی شکل دینا تھا۔ جمعرات کو بائیڈن انتظامیہ کے ایک اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ وہ یوکرین کے نیٹو میں شامل ہونے کے لیے تیز رفتار منصوبے کے لیے انکے دروازے 'کھلے' ہیں۔
یہ ولنیئس، لتھوانیا میں ہونے والی نیٹو سربراہی کانفرنس کی بات چیت کا مواد اور موضوع ہو گا، چاہے یوکرین کو براہ راست نیٹو میں شامل کیا جائے یا پھر کوئی 'سیکیورٹی گارنٹی' فراہم کی جانے کی صورت میں۔
تاہم اصل مسئلہ یوکرین کا نیٹو میں داخل ہونے کا نہیں ہے بلکہ نیٹو کا یوکرین میں 'داخل' ہونے کا ہے تاکہ جنگ میں اپنی شمولیت کو وسیع پیمانے پر بڑھایا جا سکے۔ نیٹو میں یوکرین کے داخلے کو تیز کرنے کی واحد وجہ اس طرح کے اضافے کا فریم ورک بنانا ہے۔
نیٹو کی ساری ساکھ روسیوں کو سرحد سے دور بھاگنے کی کوشش پر داؤ پر لگا دی گئی ہے جس سے ایسا بحران پیدا ہو گا جو پیوٹن حکومت کے خاتمے کا باعث بنے گا۔ کشیدگی میں اضافے کی منطق غیرمعمولی طور پر تنازع میں براہ راست نیٹو کی مداخلت کی طرف لے جاتی ہے۔
جب بھی امریکہ اور نیٹو طاقتوں نے دعویٰ کیا کہ وہ یوکرین میں کچھ نہیں کریں گے لیکن انہوں نے جنگی ٹینکوں اور لڑاکا طیاروں کی فراہمی سے لے کر روسی سرزمین پر حملہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے تمام ہتھیار تک فراہم کرنے میں آگے بڑھ کر یہ کام کیا۔
اگلی 'سرخ لکیر' کیا ہوگی جسے نیٹو یوکرین کی بگڑتی ہوئی فوجی صورتحال کے جواب میں عبور کرے گا؟ کئی امکانات ہیں:
سب سے پہلے 'نو فلائی زون' کا قیام اور نیٹو کے طیاروں کے ذریعے روسی افواج کی براہ راست شمولیت۔
دوسرا نیٹو فوجیوں کی جنگی علاقے میں براہ راست تعیناتی۔
اور تیسرا تنازعہ میں روسی فتح کو روکنے کے لیے نیٹو کی جانب سے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی یا استعمال کیا جائے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ سرد جنگ کے دوران، امریکی جیو پولیٹیکل اسٹریٹجسٹ ہنری کسنجر نے جسکی حال ہی میں اپنی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر میڈیا کی تعریفوں کا موضوع بنے رہے اُس نیایک بار یوکرین کی افواج کو درپیش تباہی سے بچنے کے لیے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو بیان کیا تھا۔
اپنی 1957 کی کتاب نیوکلیئر ویپنز اینڈ فارن پالیسی میں کسنجر نے جوہری ہتھیاروں کی فرنٹ لائن لڑائی میں تعیناتی اور ان کے میدان جنگ میں امریکہ کی طرف سے روایتی قوتوں کی پیش قدمی کو روکنے کی جدوجہد میں استعمال کرنے پر بحث کی۔
'محدود جوہری جنگ' یعنی جوہری جنگ جو عالمی تباہی اور 'باہمی یقینی تباہی' کا باعث نہیں بنتی کے موضوع پہ کسنجر نے دلیل دی کہ یہ 'درحقیقت ایک ایسی حکمت عملی ہے جو ہماری خصوصی صلاحیتوں کو بہترین فائدے کے لیے استعمال کرے گی اور اس کا روایتی جنگ کے مقابلے میں ہمہ گیر ہونے کا امکان کم ہو سکتا ہے۔
اس نے دلیل دی کہ اس طرح کی جنگ کو 'فوجی کارروائیوں کے دوران بہتر بنایا جائے گا اور خاص کر بدترین ممکنہ حالات کے مد نظر نفسیاتی اور فوجی دونوں کے تحت شروع کیا جائے گا ' یعنی بالکل وہی حالات جو اب یوکرین میں تیار ہو رہے ہیں۔
کسنجر نے دلیل دی کہ 'آبادی کے سب سے بڑے مراکز' کو نشانہ بنانے کے بجائے جوہری ہتھیاروں کو جنگ کے حصے کے طور پر 'چھوٹی، انتہائی موبائل اور خود ساختہ اکائیوں کی بنیاد پر' استعمال کیا جا سکتا ہے جس کا مقصد 'جارحیت کو اس کے ایک مقصد سے محروم کرنا اور علاقے کو کنٹرول کرنا ہے۔ جوہری ہتھیاروں کے ساتھ چھوٹے موبائل یونٹ اپنے دشمن کو شکست دینے یا اہم مقاصد کو تیزی سے تباہ کرنے کے لیے انتہائی مفید ہیں۔
کسنجر کی حکمت عملی میں ایک زبردست خامی پائی جاتی تھی۔ اس نے فرض کیا کہ امریکی جوہری ہتھیاروں سے نشانہ بننے والے اپنے ردعمل کو محدود کر دیں گے اور اس میں اضافے پر قابو پایا جائے گا۔ لیکن ان کے تمام واضح پاگل پن کے باوجود کسنجر کے نظریات درحقیقت موجودہ امریکی جوہری حکمت عملی کے لیے ایک اہم اعلی شگفتہ نقط نظر رہے ہیں۔
2016 میں امریکہ کے ملٹی ٹریلین ڈالر کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے آغاز کے بعد سے امریکہ چھوٹے اور کم ضیاع والے 'قابل استعمال' جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
سنٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کے 2015 کے ایک مقالے میں اجاگر کیا گیا ہے کہ 'دو عالمی سپر پاورز کے درمیان 'دہشت گردی کے توازن' (دہشت گردی کے توازن کے حوالہ سے مراد، سرد جنگ میں امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان جوہری اسلحہ کی دوڑ) کہ کے بعد سے جوہری استعمال کے منظرنامے بہت بدل چکے ہیں۔' نتیجے کے طور پر 'دوسرے جوہری دور' میں جنگجو شامل ہوتے ہیں 'یہ سوچتے ہیں کہ تنازعات کے آغاز میں دونوں اور امتیازی طریقے سے اصل میں جوہری ہتھیار کیسے استعمال کر سکتے ہیں۔'
2019 میں خارجہ امور نے ٹرمپ کی 2018 کی قومی دفاعی حکمت عملی کے پرنسپل مصنفین میں سے ایک ایلبرج کولبی کا 'اگر آپ امن چاہتے ہیں تو جوہری جنگ کی تیاری کریں' کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا تھا۔ کولبی نے لکھا کہ 'ایٹمی برنک مینشپ کے خطرات بہت زیادہ ہوسکتے ہیں لیکن مخالف پر جوہری برتری حاصل کرنے کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔
کولبی نے مزید کہا کہ 'جوہری جنگ سے بچنے کا بہترین طریقہ محدود جنگ کے لیے تیار رہنا ہے۔'
2022 کا یو ایس نیوکلیئر پوسچر ریویو واضح کرتا ہے کہ امریکہ کسی بھی قسم کے قومی مقصد کے حصول کے لیے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ یہ اعلان کرتا ہے کہ 'اگرچہ امریکی جوہری ہتھیاروں کا بنیادی کردار جوہری حملے کو روکنا ہے لیکن زیادہ وسیع طور پر وہ ہر قسم کے اسٹریٹجک حملے کو روکتے ہیں اتحادیوں اور شراکت داروں کو یقین دلاتے ہیں اور اگر پھر ڈیٹرنس ناکام ہو جاتا ہے تو ہمیں صدارتی مقاصد حاصل کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔'
امریکہ اور نیٹو طاقتوں نے روس کے خلاف سٹریٹیجک شکست دینے کے مقصد سے اپنی پوری ساکھ داؤ پر لگا دی ہے۔
یہ یقین کرنا کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا سہارا نہیں لیں گے تاریخ کے اسباق کو نظر انداز کرنا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ واحد طاقت ہے جس نے درحقیقت جنگ میں ایٹمی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔ امریکی عالمی تسلط کے بحران کے ساتھ مل کر ایک گہرے ہوتے سماجی، اقتصادی اور سیاسی بحران کے بھنور کے درمیان واشنگٹن ہمیشہ سے لاپرواہ اور مایوسانہ اقدامات کی طرف مائل ہے۔
امریکی حکمران طبقے نے خود کو انسانی زندگی سے مکمل طور پر لاتعلق ظاہر کیا ہے۔ بڑی کارپوریشنوں کے منافع کمانے کی حمایت کے نام پر، امریکی حکمران طبقے نے کوویڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام اقدامات کو ختم کر دیا ہے جس سے یہ بیماری بغیر کسی روک ٹوک کے گردش کر رہی ہے اور ہر سال دسیوں یا لاکھوں افراد کو ہلاک کر دیتی ہے۔ اس نے جان بوجھ کر ایک ایسی جنگ کو ہوا دی ہے جس میں لاکھوں لوگ مارے گئے ہیں۔
سخت ترین وارننگ دی جانی چاہیے۔ اس جنگ کو ختم ہونا چاہیے اس سے پہلے کہ انسانی معاشرہ جنگ سے ختم ہو جائے۔
